خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 312
خطبات مسرور جلد پنجم 312 خطبہ جمعہ 27 جولائی 2007ء شامل ہورہے ہیں ان کو بھی تو جہ دلانی ہے کہ یہ جلسہ جس کی بنیا د حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خالص دینی مقاصد کے حصول کے لئے رکھی ہے اس میں ہر جگہ اور ہر موقع پر اسلامی اخلاق کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے اور آنکھوں میں ٹھنڈک پڑ جاتی ہے۔پس مجھے آپ ہر چیز کے بارے میں بتادیں، آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے۔اس پر میں نے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جس پر عمل کرنے لگوں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا کہ سلام کو رواج دو، کھانا کھلایا کرو، صلہ رحمی کیا کرو اور اس وقت نماز پڑھو جبکہ لوگ سور ہے ہوں تو پھر سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(ترمذی ابواب صفة القيمة حديث نمبر (2485 ایک دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے اس میں ہے کہ " جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے اسے بھی سلام کرو۔“ (صحیح بخاری کتاب الاستيذان باب السلام للمعرفة وغير المعرفة حديث نمبر 6236) تو یہ ہیں اسلامی اخلاق، کہ سلام کو رواج دو کیونکہ جب سلام پہنچا رہے ہو گے تو امن وسلامتی کا پیغام ایک دوسرے کو دے رہے ہو گے اور دل سے نکلے ہوئے اس پیغام سے دلوں کی نفرتیں اور کدورتیں بھی دور ہوتی ہیں۔بعض عزیزوں ، رشتہ داروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں اور بڑھتے بڑھتے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی ختم ہو جاتا ہے۔سلام کرنا تو دور کی بات ہے ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔اللہ اور اس کا رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک دوسرے پر سلامتی بھیجو۔پس ان دنوں میں اس ماحول سے فائدہ اٹھائیں۔جن میں آپس میں رنجشیں ہیں وہ اس خود ساختہ دیوار کو گرا میں ان رنجشوں کو ختم کریں اور بڑھ کر ایک دوسرے کو سلام کریں تا کہ جس روحانی ماحول سے فیض اٹھانے کے لئے آئے ہیں اس کی حقیقی برکات سے مستفید ہوسکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ نئے شامل ہونے والے اور پرانے احمدی ایک دوسرے کو دیکھ لیں گے اور اس طرح رشتہ تو دود و تعارف ترقی پذیر ہوگا۔اگر پرانے رشتوں اور تعلقات میں ہی دراڑیں پڑ رہی ہوں گی تو نے رشتے بھی پھر مضبوطی والے نہیں ہوں گے۔ان کا اثر پھر نئے رشتوں پر بھی پڑ رہا ہوگا۔پس ان دنوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں نئے تعارف حاصل کر کے محبت میں بڑھ رہے ہوں وہاں اس روحانی ماحول کی برکت سے اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے بھی جوڑیں اور سلامتی