خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 285
خطبات مسرور جلد پنجم 285 خطبہ جمعہ 06 جولائی 2007ء پس یہ ہے امن بخشنے والا خدا جس پر ایمان کی مضبوطی اسے ہر مخالف کے مقابل پر جرات دلاتی ہے۔روح المعانی میں مومن کے لفظ کی مزید وضاحت میں لکھا ہے کہ المؤمن کا معنی ہے وہ جو اپنے بندوں کو سب سے بڑی گھبراہٹ یعنی قیامت کے دن سے امن بخشنے والا ہے۔پھر بندوں کو اس سب سے بڑی گھبراہٹ سے اس طرح امن بخشنے والا ہے کہ ان کے دلوں میں طمانیت پیدا کر دے یا انہیں اپنی جناب سے خبر دے کر امن بخشے کہ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا۔ثعلب نے بیان کیا ہے کہ الْمُؤمِن کا معنی مصدق ہے اور اللہ تعالیٰ مومنوں کے دعوی ایمان کی تصدیق کرنے والا ہے۔بعض نے الْمُؤْمِین کا معنی کیا ہے وہ جو کہ زوال کے عیب سے خود امن میں ہے کہ خدا تعالیٰ پر کسی قسم کا زوال آنا محال ہے۔پس یہ ہیں لفظ مومن کے چند معانی جو اللہ تعالیٰ کی ذات میں استعمال ہوتے ہیں۔اللہ تعالی امن دینے والا بھی ہے، امن میں رکھنے والا بھی ہے اور ایمانوں کو مضبوط کرنے والا بھی ہے۔اس لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس اللہ تعالیٰ کی ہر صفت پر اپنے کامل ایمان کے ساتھ عمل کرنے والے ہوں۔خانہ کعبہ کا پہلے ذکر چل رہا تھا ، یہ اللہ کا گھر ہے۔مساجد بھی اسی طرح اللہ کا گھر ہیں اور عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں۔یہاں سے بھی امن کا پیغام دنیا کو پہنچتا ہے اور پہنچنا چاہئے اور مساجد کی یہی حقیقی روح ہے۔لیکن آج دیکھیں مسیح محمدی کو نہ ماننے والے ان کا کیا استعمال کر رہے ہیں۔گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں جو امن وسکون برباد ہوا ہے وہ کیا ہے؟ بظاہر مسجد ہے لیکن اندر دہشت گردوں کا اڈا بنا ہوا ہے، حکومت کے مقابلے پر کھڑے ہیں۔جنگ کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔احمدیوں پر یہ الزام لگتا تھا کہ ربوہ کوسٹیٹ کے اندرسٹیٹ بنایا ہوا ہے اور اب خود لال مسجد اور جامعہ حفصہ وغیرہ کے حوالے سے یہ بیان دے رہے ہیں کہ انہوں نے قانون کو اتنا اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے کہ حکومت کے مقابلے پر کھڑے ہیں ، سٹیٹ کے اندر سٹیٹ ہے اور یہ کبھی برداشت نہیں ہوسکتی تو خود ان کے مونہوں سے ہی اللہ تعالیٰ یہ باتیں نکلواتا ہے۔ان لوگوں نے امن قائم کرنا ہے؟ ان لوگوں کے دعوی ایمان کی اللہ تعالیٰ تصدیق کرے گا؟ ہم مومن اور دوسرے الفاظ کی جو تعریف سن کے آئے ہیں اس زمرے میں تو یہ نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ تو ان کی تصدیق کرتا ہے جو اپنے نفس کو حق کا مطیع بناتے ہیں اور ان کا دعویٰ حق کا ہوگا۔لیکن اِن کا عمل کیا ہے؟ حکومت سے ٹکر لے رہے ہیں۔جو قطعاً کھلے طور پر بغاوت ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی ہے۔لیکن اگر یہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو جب حکومت نے ایکشن لیا تو پھر حق بھول گئے۔پھر عورتوں میں شامل ہو کر برقعہ پہن کر نکل گئے۔تو یہ ان کا حق ہے۔کیا یہ ایمان کی مضبوطی ہے۔