خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 284
284 خطبہ جمعہ 06 جولائی 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم ماننے والے امن و سکون سے اس امن والے گھر میں داخل ہو سکیں اور جب وہ وقت آئے گا اور انشاء اللہ ضرور آئے گا تو پھر دنیا دیکھے گی اور تسلیم کرے گی کہ ہاں اب اس کے حقیقی وارث اس تک پہنچے ہیں اور اب اس امن کے سمبل (Symbol) کا اثر بھی دنیا میں پیار، محبت اور امن و سلامتی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔اس کا نقشہ خود امام راغب بھی پیش کر رہے ہیں۔میسیج کی حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ نیز نزول مسیح کی حدیث میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ تَقَعُ الْآمَنَةُ فِي الْأَرْضِ یعنی زمین پر مسیح کے آنے سے امن و امان قائم ہو جائے گا۔پس یہ امن اس مسیح سے وابستہ ہے جو آپکا ہے اور جس نے جنگ اور قتال کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔اب اس کی آواز کو سن کر بھی مسلمان نہ سمجھیں اور اس انتظار میں بیٹھے رہیں تو ان کی بد قسمتی ہے۔جو یہ تشریح کرتے ہیں کہ مسیح کے آنے کے بعد اس نے کیا کرنا ہے۔اگر اس کو دیکھیں گے تو اُس مسیح نے کیا امن قائم کرنا ہے جو ان کے نظریہ کے مطابق آئے گا۔اس نے تو طاقت سے صلیب کو بھی توڑنا ہے، اس نے تو قتل و غارت بھی کرنی ہے۔کیا قتل و غارت سے دنیا کے امن قائم ہوتے ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ آئن دو معنوں میں آتا ہے ایک معنی یہ ہیں کہ کسی کے لئے امن مہیا کرنا اور اس معنی میں اللہ تعالیٰ کو مومن کہا جاتا ہے، یعنی امن عطا کرنے والا۔اور امن کے دوسرے معنی ہیں۔خود امن میں آ گیا۔اسے طمانیت نصیب ہوگئی۔الایمان یہ لفظ تو کبھی اس شریعت کے لئے استعمال ہوتا ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ لے کر آئے ہیں۔جیسا کہ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصُّبِئُونَ (المائدة: 70 )۔اور مومن اس معنی کے لحاظ سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا جو اللہ کی ہستی اور محمد ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا اقرار کرتے ہوئے اس کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح کے استعمال ہوتا ہے۔تب ایمان سے مراد ہوتا ہے اپنے نفس کو اس طرح حق کا مطیع بنادینا کہ حق کی تصدیق کرتا ہو۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس کی تفسیر میں روح المعانی میں مومن کے لفظ کے تحت لکھا ہے کہ اپنی اور اپنے رسولوں کی اس بارے میں تصدیق کرنے والا کہ انہوں نے اس کی طرف سے، یعنی اللہ کی طرف سے جو پیغام پہنچایا ہے وہ درست ہے ، خواہ وہ یہ تصدیق اپنے قول سے کرے یا معجزات دکھانے سے کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی وضاحت میں مومن کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوسکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہو گا کیونکہ اس کے پاس زبر دست دلائل ہوتے ہیں۔لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بیہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 375)