خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 278

خطبات مسرور جلد پنجم 278 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء میں بیان کئے ہیں ) ان کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے اسلام کی روشن اور حسین تعلیم سے دنیا کو روشناس کروائیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: اس وقت ایک افسوسناک اعلان کروں گا۔ڈنمارک کے ہمارے ایک مخلص فدائی احمدی مکرم عبد السلام میڈسن صاحب 25 جون کو بقضائے الہی وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ کے والد عیسائی پادری تھے۔خود بھی یو نیورسٹی میں کر چین تھیالوجی (Christian Theology) کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ، عیسائیت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔انہوں نے بھی پادری بنا تھا۔لیکن قرآن کریم کے مطالعہ کے بعد اچانک ان کی زندگی میں انقلاب آیا اور 1955ء میں جب آپ یو نیورسٹی کے فائنل امتحان کی تیاری کر رہے تھے آپ نے عیسائیت کو ترک کیا اور اسلام قبول کیا۔جس کے بعد پھر 1956ء میں ہمارے مبلغ کمال یوسف صاحب سے رابطہ ہوا جو ان دنوں میں سویڈن میں تھے ، ان کے ذریعہ پھر پوری تحقیق کر کے 1958ء میں خلافت ثانیہ میں آپ نے بیعت کی اور جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔پھر 1958ء میں ہی آپ نے وصیت کی توفیق پائی اور اس طرح یہ سکینڈے نیوین ممالک میں پہلے موصی تھے اور 1961ء میں اپنی زندگی وقف کرنے کی درخواست بھیجی اور 15 نومبر 1962ء کو آپ کا تقرر بطور اعزازی مبلغ ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آخر وقت تک اس پر قائم رہے۔ڈینیش کے علاوہ انگلش ، جرمن اور عربی زبان پر بھی ان کو عبور تھا اور قرآن کریم کا ڈینش ترجمہ بھی انہوں نے کیا جو پہلی بار 1967ء میں شائع ہوا۔قرآن کریم کے ترجمہ کے علاوہ بھی انہوں نے جماعت کا کافی لٹریچر پیدا کیا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ان کی بہت ساری خدمات ہیں۔کچھ عرصہ سے ان کو کینسر تھا جس کی وجہ سے بیمار تھے۔مجھے سلام اور دعا کے لئے پیغام بھی بھجواتے رہتے تھے۔ہر خلافت سے ان کا ہمیشہ تعلق رہا۔ان کی اہلیہ بھی 1960ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوئی تھیں۔اہلیہ اور بیٹا ان کی یادگار ہیں۔دوسرے مکرم استاذ صالح جابی صاحب جو سینیگال کے ہیں یہ یکم مئی کو 68 سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پاگئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ سینیگال کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے اور بڑے اچھے داعی الی اللہ تھے تبلیغ میں مصروف رہتے تھے۔آپ علاقے کے معروف عربی استاد اور عالم تھے اور آپ کے گاؤں اور نزدیک کے دوسرے دیہات سے لوگ علم حاصل کرنے کے لئے آپ کے پاس آتے رہتے تھے۔1985ء سے انہوں نے بطور معلم جماعت کو اپنی خدمات پیش کیں اور اس عہد کو وفات تک نبھایا۔اللہ تعالیٰ ہر دو بزرگوں کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت کا سلوک فرمائے۔ابھی جمعہ کی نماز کے بعد ان دونوں کی نماز جنازہ غائب پڑھوں گا۔انشاء اللہ ( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 20 تا 26 جولائی 2007ء ص 5 تا 9)