خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 279
خطبات مسرور جلد پنجم 279 (27) خطبہ جمعہ 06 جولائی 2007ء فرمودہ مورخہ 06 جولائی 2007 ء (06روفا1386 ہجری شمسی) بمقام مسجد بیت الفتوح،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی: هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقَدُّوسُ السَّلمَ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبَرُ سُبْحْنَ اللَّهِ عَمَّايُشْرِكُوْنَ(الحشر:24) فرمایا۔وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ، وہ بادشاہ ہے، پاک ہے ، سلام ہے، امن دینے والا ہے ، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے ،ٹوٹے کام بنانے والا ہے اور کبریائی والا ہے۔پاک ہے اللہ اس سے جو شرک کرتے ہیں۔جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ کا ایک نام مؤمن ہے۔جو ترجمہ میں نے پڑھا ہے ، اس میں مُؤْمِنُ کے معنی امن دینے والے کے کئے گئے ہیں۔پس ہر شخص کا انفرادی امن بھی اور معاشرے کا امن بھی اور دنیا کا امن بھی اُس ذات کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہے جو امن دینے والی ذات ہے جس کا ایک صفاتی نام جیسا کہ آپ نے سنا الْمُؤْمِنُ ہے۔پس اس نام سے فیض بھی وہی پائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حکم صبغة الله کہ اللہ کے رنگ میں رنگین ہو، پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔اس سے دُور ہو کر ہر امن کی کوشش رائیگاں جائے گی۔ہر کوشش کا آخری نتیجہ ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش ہو گا نہ کہ امن۔اور یہ امن اسی کو مل سکتا ہے جن کا ایمان کامل ہو۔اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل تب ہو گا جب اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء پر بھی ایمان ہو جیسا کہ اس نے فرمایا ہے۔پس آنحضرت ﷺ جو خاتم الانبیاء ہیں آپ پر ایمان لانا بھی اصل میں ایک مومن کو کامل الایمان بناتا ہے۔آپ کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم اتارا اور ایک مسلمان کو اس کا پابند کیا۔اور پھر آنحضرت ﷺ نے ایک مسلمان کو اس بات کا بھی پابند فرمایا کہ تاریک زمانے کے بعد جب میرا مسیح و مہدی مبعوث ہو گا تو اسے ماننا، اسے قبول کرنا ، اس کی بیعت میں شامل ہونا، یہ بھی تم پر فرض ہے اور وہ کیونکہ حکم اور عدل بھی ہو گا اس لئے قرآن کریم کے معارف اور احکامات کی جو تشریح وہ کرے، جو وضاحت وہ کرے اس کو ماننا اور اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہی ہے جس نے تمام مسلمانوں کو بھی اور غیر مسلموں کو بھی میرے نام پر ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا اور امت واحدہ بنانا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہونے