خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 277

خطبات مسرور جلد پنجم 277 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء کرنی ہے کہ دشمن کو کم از کم نقصان پہنچے۔قیدیوں کے آرام کا خیال رکھنا ہے۔غالبا جنگ بدر کے ایک قیدی نے بیان کیا کہ جس گھر میں وہ قید تھا اس گھر والے خود کھجور پر گزارا کرتے تھے اور مجھے روٹی دیا کرتے تھے اور اگر کسی بچے کے ہاتھ میں بھی روٹی آجاتی تھی تو مجھے پیش کر دیتے تھے۔اس نے ذکر کیا کہ میں بعض دفعہ شرمندہ ہوتا تھا اور واپس کرتا تھا لیکن تب بھی ( کیونکہ یہ حکم تھا ، اسلام کی تعلیم تھی وہ باصرار روٹی مجھے واپس کر دیا کرتے تھے کہ نہیں تم کھاؤ۔تو بچوں تک کا یہ حال تھا۔یھی وہ سلامتی کی تعلیم ، امن کی تعلیم ، ایک دوسرے سے پیار کی تعلیم ، دوسروں کے حقوق کی تعلیم جو آنحضرت نے اپنی امت میں قائم کی۔اور بچہ بچہ جانتا تھا کہ اسلام امن وسلامتی کے علاوہ کچھ نہیں۔پھر کسی بھی قوم سے اچھے تعلقات کے لئے اس کے سفیروں سے حسن سلوک انتہائی ضروری ہے۔آپ کا حکم تھا کہ غیر ملکی سفیروں سے خاص سلوک کرتا ہے۔ان کا ادب اور احترام کرنا ہے اگر غلطی بھی ہو جائے تو صرف نظر کرنی ہے، چشم پوشی کرنی ہے۔پھر اس امن قائم کرنے کے لئے فرمایا کہ اگر جنگی قیدیوں کے ساتھ کوئی مسلمان زیادتی کا مرتکب ہو تو اس قیدی کو بلا معاوضہ آزاد کر دو۔تو یہ احکام ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام کی جنگیں برائے جنگ نہ تھیں بلکہ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ کے لئے تھیں۔آزادی ضمیر و مذہب کے قیام کے لئے تھیں اور دنیا کو امن وسلامتی دینے کے لئے تھیں۔پھر قیدیوں سے حسن سلوک کے بارے میں قرآنی تعلیم ہے کہ اگر کسی قیدی کو یا غلام کو فدیہ دے کر چھڑانے والا کوئی نہ ہو اور وہ خود بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو فرمایا وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَاتُوهُمْ مِّنْ مَّالِ اللهِ الَّذِى انكُمُ (النور : 34) یعنی تمہارے غلاموں یا جنگی قیدیوں میں سے جو تمہیں معاوضہ دینے کا تحریری معاہدہ کرنا چاہیں تو اگر تم ان میں صلاحیت پاؤ کہ ان میں یہ صلاحیت ہے ، ان کو کوئی ہنر آتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے تحت کوئی کام کر کے اپنی روزی کما سکتے ہیں تو تحریری معاہدہ کر لو اور ان کو آزاد کر دو اور وہ مال جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے بھی کچھ انہیں دو۔یہ جو جنگوں کا خرچ ہے کیونکہ اس وقت انفرادی طور پر پورا کیا جاتا تھا تو جس مالک کے پاس وہ غلام ہے وہ اس کا کچھ خرچ برداشت کرے یا وہ نہیں کرتا تو مسلمان اکٹھے ہو کر اس کے لئے سامان کر دیں اس طرح اس کو آزادی مل جائے یا لکھ کر آزادی مل جائے یا اگر اس کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی اپنے پاس سے پوری کر دوتا کہ وہ آزادی سے روزی کما سکے اور اس طرح معاشرے کا آزاد شہری بنتے ہوئے ملکی ترقی میں بھی شامل ہو سکے کیونکہ اس کا ہنر اس کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ملک کے بھی کام آ رہا ہو گا۔تو یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم جو ہر پہلو سے ہر طبقے پر سلامتی بکھیر نے والی ہے۔ہر ایک کو آزادی دلوانے والی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو تو فیق دے کہ اللہ تعالیٰ کی اس خوبصورت تعلیم کے جو مختلف پہلو ہیں ( جو مختلف خطبات