خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 236

خطبات مسرور جلد پنجم 236 خطبہ جمعہ 8 جون 2007ء کمزور احمدی کا معیار قربانی یعنی اس کی آمد کی نسبت سے قربانی کا جو اس کا معیار ہے وہ اپنے آسودہ حال بھائیوں سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔بہر حال جو لوگ خوشحال ہیں ، یا نسبتا زیادہ بہتر حالت میں ہیں ، ان کو اپنے ان عزیزوں کا جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں ، خیال رکھنا چاہئے کیونکہ آپس میں محبت پیار بڑھانے کا یہ بہت بڑا ذریعہ ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ بندے سے جب سلام کا لفظ منسوب ہو تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایسا شخص جس کے اخلاق، خواہشات غضب کے تابع نہ ہوں۔ایک احمدی کا معیار تو یہی ہے کہ اس میں صرف اپنی خواہشات نہ ہوں بلکہ وہ اپنے بھائیوں کی خواہشات کا بھی احترام کرنے والا ہو۔اپنی بہنوں کی خواہشات کا احترام کرنے والا بھی ہو۔اپنے عزیزوں رشتہ داروں کی خواہشات کا احترام کرنے والا بھی ہو۔غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے والا بھی ہو۔غصے کی وجہ سے یا کسی ناراضگی کی وجہ سے اگر کوئی ضرورت مند ہے تو کسی بھی وقت اس کو اپنی مدد سے محروم نہ کرے، اس کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچے۔اس بارے میں خدا تعالیٰ کا واضح ارشاد ہمیشہ یا درکھنا چاہئے۔جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بعض لوگوں نے الزام لگایا اور یہ لمب واقعہ ہے بہر حال جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس الزام کی بریت ہوگئی تو اس وقت الزام لگانے والوں میں ایک ایسا شخص تھا جو ویسے تو نیک تھے، پتہ نہیں کیوں منافقین کی باتوں میں آگئے۔بہر حال وہ ایسے بھی تھے جن کی ضرورت کی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدد کیا کرتے تھے۔جب حضرت عائشہ کی بریت ہو گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ عہد کیا قسم کھائی کہ میں اب ساری عمر کبھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِيْنَ وَالْمُهجِرِينَ فِي سَبِيلِ | اللّهِ وَلْيَعْفُوا وَليَصْفَحُوا اَ لا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور: (23) اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔پس چاہئے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے او اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔(صحیح بخاری کتاب المغازى باب حديث الافك حديث نمبر (4141 پس یہ مومنین کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والا حکم ہے۔باوجود اس کے کہ یہ الزام حضرت ابو بکر صدیق کی بیٹی پر لگا تھا۔باوجود اس کے کہ الزام حضرت ابوبکر صدیق کی محبوب ترین ہستی کی بیوی پر لگا تھا جس سے آپ ﷺ کو بہت صدمہ تھا۔باوجود اس کے کہ یہ الزام نہ صرف ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبوب ہستی پر تھا بلکہ خود خدا تعالیٰ کے پیارے پر یہ الزام تھا جس کی وجہ سے آپ انتہائی پریشانی میں مبتلا تھے۔اللہ تعالیٰ کا وہ پیارا جس کی خاطر خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا لیکن اس کے باوجود پھر بھی اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان لوگوں کو معاف کر دیا بلکہ حکم دیا کہ اے