خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 237

خطبات مسرور جلد پنجم 237 خطبہ جمعہ 8 / جون 2007ء صاحب فضیلت شخص جو نبی کو سب سے زیادہ پیار کرنے والا اور اس کے گہرے دوستوں میں سے ہے اور وہ تمام لوگ جو اس زمرے میں آتے ہیں ، جو بھی حالات ہوں درگزر کرتے ہوئے اس مدد کو جاری رکھو جو کسی کی کر رہے ہو۔کسی بھی قسم کی غصے کی حالت اور تکلیف تمہیں اس مدد سے نہ روکے۔اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہے، ان کو بھی بخشنے والا ہے تم کو بھی بخشے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے پیاروں سے صرف اور صرف دوسروں کے لئے سلامتی کی توقعات ہیں۔پس اس مقام کو کبھی نہ ضائع ہونے دو۔جب ان حالات میں ایک دوسرے کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچنے کا حکم ہے تو عام حالات میں تو بہت زیادہ اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔عام حالات میں تو صلح اور سلامتی کو پھیلانے کے لئے بہت زیادہ ایک دوسرے کی معاشی ضروریات کا خیال رکھنے کا حکم ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس پیار کے اظہار کے لئے ، اس لئے کہ اب معاشرے کی سلامتی ایک دوسرے کی خاطر ہر قسم کی قربانی سے وابستہ ہے، انصار مدینہ نے مہاجرین کے لئے مالی ہر وا! قربانی کے بھی اعلیٰ ترین نمونے دکھائے۔وہ جانتے تھے کہ وہ انصار اور مہاجر نہیں بلکہ مسلمان، مسلمان کا رشتہ قائم ہوا ہے۔اب صلح اور سلامتی کی نئی روایتیں قائم ہونے جا رہی ہیں۔نبی ﷺ نے جو ہمارے درمیان مواخات قائم کر دی ہے یہ کوئی دنیاوی بھائی بندی نہیں ہے۔اس نبی ﷺ کی پیروی میں یہ وہ مواخات ہے جس سے اب دنیا کی سلامتی وابستہ ہے۔پس ایک دنیا نے دیکھا کہ سلامتی کے جذبے سے پُر مواخات نے دنیا میں کیا کیا انقلابات پیدا کئے۔پس یہ جذبہ ہے جو آج آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت کے ہر فرد نے بھی دکھانا ہے جس سے پھر انشاء اللہ اس سلامتی کا دور دورہ ہوگا جس کے ساتھ آنحضرت ﷺ بھیجے گئے تھے۔پس اپنے عزیزوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ کریں۔مسکینوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ کریں۔یہاں ان مغربی ممالک میں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے کشائش حاصل کر چکے ہیں اپنے عزیزوں کو ، ایسے عزیز جوز رنگیں نہیں بلکہ قرابت داری ہے، جو غریب ملکوں میں رہتے ہیں اور جن کی مالی کشائش نہیں ، ان کو بھی وقتا فوقتا تحفے بھیجتے رہا کریں۔پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی میرے علم میں بعض ایسے خاندان ہیں جو اپنی بہتر تعلیم کی وجہ سے یا بہتر کا روبار کی وجہ سے آسودہ حال ہیں اُن کو بھی اپنے اپنے ملکوں میں اپنے ضرورتمند بھائیوں کا خیال رکھنا چاہیئے اور یہ خیال ایسا ہو کہ اس میں احسان جتانا نہ ہو بلکہ اِیتَاءِ ذِي الْقُرْبی کا نظارہ پیش کر رہا ہو ، دل کی گہرائیوں سے خدمت ہو رہی ہو۔اس حکم کے تابع یہ مدد ہو رہی ہو کہ دایاں ہاتھ اگر دے رہا ہے تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔یہ طریق ہے جس سے دوسرے کی عزت نفس بھی قائم رہتی ہے۔یہ طریق ہے جس سے معاشرے میں سلامتی پھیلتی ہے اور یہ طریق ہے جس سے ایک دوسرے کے لئے دعاؤں سے پر معاشرہ بھی قائم ہوتا ہے۔آجکل پاکستان میں بھی مہنگائی بہت ہے، دنیا میں عمومی طور پر مہنگائی بڑھ گئی ہے اور سنا ہے کہ بعض سفید پوش جو ہیں ان کو سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا بھی مشکل ہو