خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 235
خطبات مسرور جلد پنجم 235 23 خطبہ جمعہ 8 /جون 2007ء ( فرموده مورخہ 08 جون 2007 (08 احسان 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے والدین سے لے کر معاشرے کے مختلف طبقات سے حسنِ سلوک کے بارے میں قرآنی تعلیم کا ذکر کیا تھا کیونکہ یہ حسن سلوک معاشرے میں صلح سلامتی اور امن کا ماحول پیدا کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔معاشی اور اقتصادی حالات جو ہیں ان کا بھی معاشرے کے امن وسلامتی سے بڑا تعلق ہے، اس حوالے سے آج چند باتیں کروں گا۔کسی بھی معاشرے میں نسبتی لحاظ سے بھی اور واضح فرق کے لحاظ سے بھی امیر لوگ بھی ہوتے ہیں اور غریب بھی ہوتے ہیں۔ضرورت مند بھی ہوتے ہیں اور دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔بعض مالی کشائش ہونے کے باوجود طبیعتوں کے بخل کی وجہ سے نہ دینی ضرورتوں پر خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے پر یہاں تک کہ اپنے قریبی عزیزوں سے حسنِ سلوک سے بھی بالکل بے پرواہ ہوتے ہیں۔کبھی خیال نہیں آتا کہ ان کی مالی ضرورت کا جائزہ لے کر اس مال میں سے جو خدا تعالیٰ نے انہیں دیا ہے ان پر بھی کچھ خرچ کر سکیں۔نتیجہ بعض اوقات پھر رشتوں میں ایسی دراڑیں پڑنی شروع ہوتی ہیں اور بڑھتے بڑھتے اس حد تک چلی جاتی ہیں کہ رشتوں کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ غریب رشتہ داروں کو تکلیف میں جب ضرورت ہوتی ہے اور جب ان کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں، ان کے قریبی عزیز ضرورتیں پوری نہیں کرتے تو یہ باتیں اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ پھر نفرتیں پنپنے لگتی ہیں۔گو ایک مومن کا شیوہ نہیں کہ کسی دوسرے کی آسودگی اس کے دل میں حسد اور نفرت کے جذبات پیدا کرے۔ہر اس شخص کو جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اپنے آپ کو ایسے جذبات سے پاک رکھنا چاہئے اور یہی ایک مومن کی شان ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ الا ماشاء اللہ جماعت احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی برکت سے اس قسم کے خیالات رکھنے والے اور دوسروں کی دولت پر نظر رکھنے والے نہیں ہیں، یا جیسا کہ میں نے کہا بہت کم ہوں گے، اکا دُکا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا غریب طبقہ، جو کم وسائل والا طبقہ ہے وہ دوسرے کے پیسوں کو دیکھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنتے ہوئے ، اپنی طاقت سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیاں کرنے والا ہے۔اور اگر گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جائے تو مالی لحاظ سے