خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 234 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 234

234 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم حضور جھکتے ہوئے ، اس سے مدد مانگتے ہوئے ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ اگر ماضی میں کوئی کمیاں ، کوتا ہیاں ہو گئی ہیں تو خدا تعالیٰ کی رحمت طلب کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ بڑا رحیم ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ غلطی سے اگر تم کوئی کام کرتے ہو تو میں معاف کرنے والا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کا سلامتی کا پیغام ہمیں پہنچے اور ہم اس کی بخشش کی لپیٹ میں آجائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” مومن حسین ہوتا ہے۔جس طرح ایک خوبصورت انسان کو معمولی اور ہلکا سا زیور بھی پہنا دیا جائے تو وہ اسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے اگر وہ بد عمل ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔انسان کے اندر جب حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو اس کو اعمال میں ایک خاص لذت آتی ہے اور اس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔وہ اس طرح نماز پڑھتا ہے جس طرح نماز پڑھنے کا حق ہوتا ہے۔گناہوں سے اسے بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔نا پاک مجلس سے نفرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے اپنے دل میں ایک خاص جوش اور تڑپ پاتا ہے۔ایسا ایمان اسے حضرت مسیح کی طرح صلیب پر چڑھ جانے سے بھی نہیں روکتا۔وہ خدا تعالیٰ کے لئے اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے حضرت ابراہیم کی طرح آگ میں بھی پڑ جانے سے راضی ہوتا ہے۔جب وہ اپنی رضا کو رضائے الہی کے ماتحت کر دیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ جو عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُور ہے اس کا محافظ اور نگران ہو جاتا ہے اور اسے صلیب پر سے بھی زندہ اتار لیتا ہے اور آگ میں سے بھی صحیح سلامت نکال لیتا ہے۔مگر ان عجائبات کو وہی لوگ دیکھا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر پورا یمان رکھتے ہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 249 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ ہم سب کو کامل الایمان بنائے اور ہمیشہ ہم پر اپنی پسندیدگی کی نظر ڈالتے ہوئے ہمیں ہر آگ سے سلامت نکالتا ر ہے اور ہم ہر دم اس کی رحمت اور بخشش اور فضل کے نظارے دیکھتے رہیں۔( مطبوعه الفضل انٹر نیشنل لندن مورخہ 22 تا 28 جون 2007ء ص 5 تا 8 )