خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 231

خطبات مسرور جلد پنجم 231 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء اظہار کیا اور شکر یہ ادا کیا اور اب تک بھی مختلف حوالوں سے مختلف موقعوں پر ان ہمسایوں کے مجھے خطوط آتے رہتے ہیں ، کارڈز بھی آتے رہتے ہیں۔تو سب ہمسایوں سے حسن سلوک جہاں سلامتی کی ضمانت ہے وہاں اس سے تبلیغ کا بھی بہترین راستہ کھل جاتا ہے۔اگر ان لوگوں میں مذہب سے دلچسپی نہیں ہے تو کم از کم ایسے لوگوں کے ذہنوں سے اسلام کے خلاف جو زہر بھرا گیا ہے وہ نکل جاتا ہے۔اگر ہمسائیگی کی وسعت ذہن میں ہو تو پوری دنیا میں سلامتی اور صلح کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔دنیا سے فساد دُور ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہمسائیگی تو 100 کوس تک بھی ہوتی ہے۔پس آج جبکہ احمدی دنیا کے 185 سے زائد ممالک میں ہیں۔بعض علاقوں میں شاید تھوڑے ہیں یا زیادہ ہیں۔اپنے ارد گرد کے 100-100 میل کے علاقے کو بھی اپنی سلامتی کے پیغام سے معطر کر دیں تو دنیا کے ایک وسیع حصے میں اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں، اس کے خلاف جو پُر تشد داور ظلم کرنے والا ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے وہ سب داغ دھل سکتے ہیں۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو اس عہد کی کوتاہی کر رہے ہوں گے جو ہم نے اس زمانے کے امام سے باندھا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے پیار محبت کے تعلقات جس سے تمہارے حقیقی مسلمان ہونے کا پتہ چلے مزید وسیع ہونے چاہئیں ، اور وسیع ہونے چاہئیں۔کیونکہ تمہارے تعلقات کی جتنی وسعت ہوگی یا وسعت ہوتی جائے گی۔پُر امن اور سلامتی بکھیر نے والا معاشرہ اتنا وسیع ہوتا چلا جائے گا۔کس حد تک وسعت دینی ہے ؟ سارے معاشرے کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک تو ہمسائیگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔پھر فرمایا کہ تمہارے ہم جلیس جو مجلسوں میں تمہارے ساتھ ہیں جو تمہارے ساتھ کام کرنے والے ہیں۔دفتروں میں تمہارے ساتھ ہیں، کاروباری جگہوں پر تمہارے ساتھ ہیں تم سے ان سب کے ساتھ احسان کی توقع کی جاتی ہے۔پھر میٹنگز ہیں، اجلاس ہیں ، آپس کے معاشرے میں بھی جلسے ہیں تو یہاں بھی پیار اور محبت اور احسان کا سلوک کرنے کا حکم ہے۔اب اگر اتنا وسیع معاشرہ ہے اور معاشرے کے حقوق کا اسلام نے حکم دیا ہے کہ اگر انسان تصور کر ہے تو کوئی باہر رہ ہی نہیں جاتا اور یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دل میں کسی بھی شخص کے خلاف کسی بھی قسم کی قبض ہو بلکہ کھلے دل سے ہر ایک کو انسان سلامتی کا تحفہ بھیج رہا ہوگا، کوئی دل میں رنجش رہ ہی نہیں سکتی۔بعض دفعہ اجتماعوں پر جلسوں پر بعض بدمزگیاں ہو جاتی ہیں اور پھر جلسہ بھی آ رہا ہے اور اجتماعات بھی آ رہے ہیں۔تو اگر یہ سوچ ہو کہ میرے سے ان سب کے لئے احسان کے جذبات کے سوا کسی قسم کا کوئی اور اظہار نہیں ہونا چاہئے تو یہی چیز ہے جو معاشرے میں سلامتی پھیلانے والی ہو جائے گی اور حسن سلوک سے لوگ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات بنانے والے ہو جائیں گے۔