خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد پنجم 232 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء پھر معاشرے پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سلامتی کے پیغام کو دوسروں تک پہنچاؤ۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ اپنوں میں بھی اور غیروں میں بھی سلام کو رواج دو۔جب کوئی مسلمان کسی کو سلام کرے تو مسلمان کے لئے یہ حکم ہے کہ اس کو پہلے سے بڑھ کر سلامتی لوٹاؤ۔ایسی سلامتی جب ایک مسلمان معاشرے میں ، جب ایک احمدی معاشرے میں لوٹائی جا رہی ہوگی تو ہر قسم کے جھگڑوں اور فسادوں اور لڑائیوں اور رنجشوں کی بیخ کنی ہو جائے گی ، وہ ختم ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ احسان کا جواب احسان سے دو اور سلام کے بارے میں بھی آیا ہے کہ سلام کرو تو احسن رنگ میں اس کولوٹاؤ۔تحفے کے بارے میں آیا ہے کہ اگر کوئی تمہیں تحفہ دے تو بہترین رنگ میں اس کو لوٹا دیا کم از کم ویسا ہی اس کو لوٹا دو۔(النساء: 87) ایک دفعہ ایک مجلس میں ایک شخص آیا جس نے آنحضرت ﷺ کو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا اور بیٹھ گیا۔آنحضور ﷺ نے جواب دیا وَعَلَيْكُمُ السَّلام وَرَحْمَةُ الله ، پھر دوسرا شخص آیا اس نے کہا السَّلَامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ۔آپ نے فرمایا وَ عَلَيْكُمُ السَّلام وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ، تیسرا شخص آیا اس نے کہا السَّلَامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔آپ نے فرمایا وَعَلَيْكُمُ السَّلام یا شاید وَ عَلَيْكُمُ اس پر ایک قریب بیٹھے ہوئے صحابی نے پوچھا کہ باقی دو کو تو آپ نے دعائیہ کلمات کہے اور بڑا اچھا جواب دیا۔اس کو صرف وَعَلَيْكُمُ کہا ہے تو آپ نے فرمایا کہ انہوں نے جتنا سلام کیا تھا اس میں گنجائش تھی کہ بہتر کر کے لوٹا سکتا ، اس لئے ان کو میں بہتر کر کے سلام واپس کرتا رہا ہوں۔اس شخص نے بہترین دعائیہ کلمات کہے اس کے علاوہ کچھ اور جواب بنتا نہیں تھا تو میں نے کم از کم اس حکم کے تحت کہ وہی چیز لوٹا دو میں نے وَعَلَيْكُم کہہ کر اسی طرح کا اس کو سلام واپس کر دیا۔(مجمع الزوائد للهيثمى كتاب الادب باب حد السلام حدیث نمبر (12748 تو یہ ہے سلامتی پہنچانے کے طریقے اور آنحضرت ﷺ کا اسوہ۔پھر فرمایا کہ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ سے مراد یہ بھی ہے کہ ساتھ کام کرنے والے ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہہ دیا ہے۔ماتحتی میں کام کرنے والے ہیں، افسران بالا ہیں۔ان سب کے لئے نیک جذبات ہونے چاہئیں۔ان سب کو سلامتی کا پیغام پہنچانا چاہئے۔پھر فرمایا کہ مسافروں سے بھی یہ سلوک کرو۔سفر میں جو ایک تھوڑے سے عرصہ کے لئے ساتھ ہوتا ہے۔اس میں بھی تمہارے اندر حسن و احسان کی تصویر نظر آنی چاہئے تا کہ یہ معمولی وقتی تعلق بھی کوئی بداثر نہ چھوڑے۔تو خدا تعالیٰ کی اپنے بندے سے یہ توقعات ہیں کہ معمولی سا بھی کوئی ایسا موقع پیدا نہ ہو جو معاشرے میں فساد یا جھگڑے کا باعث بنے۔پھر فرمایا ان سے بھی یہ نیک سلوک ہو جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں، تمہارے ماتحت ہیں، تمہارے