خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 230
230 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم بھی حصہ دار بن جائیں گے۔تو ہمسائے کی یہ اہمیت، یہ احساس دلانے کے لئے ہے کہ اس کا خیال رکھنا، اس سے حسن سلوک کرنا ، اس کی ضروریات کو پورا کرنا بہت اہم ہے۔کیونکہ یہ بھی ہمسائے ہیں جو گھر کی چار دیواری سے باہر قریب ترین لوگ ہیں۔اگر یہ ایک دوسرے سے حسن سلوک نہ کریں، ایک دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث بنیں، تو جس گلی میں یہ گھر ہوں گے جہاں حسن سلوک نہیں ہو رہا ہو گا تو وہ گلی ہی فساد کی جڑ بن جائے گی۔اس گلی میں پھر سلامتی کی خوشبو نہیں پھیل سکتی۔گھر سے باہر نکلتے ہی سب سے زیادہ آمنا سامنا ہمسایوں سے ہوتا ہے۔ان کو اگر دل کی گہرائیوں سے سلامتی کا پیغام پہنچائیں گے تو وہ بھی آپ کے لئے سلامتی بن جائیں گے۔ان مغربی ممالک میں عموماً ہر کوئی اپنے میں مگن رہتا ہے ان لوگوں کی ایک زندگی بن گئی ہے کہ اپنا گھر یا اپنے بہت قریبی۔ہمسائے کا وہ تصور یہاں ہے ہی نہیں جو اسلام نے ہمیں سکھایا ہے۔یہی اسلام کی خوبی ہے کہ ہر بظاہر چھوٹی سے چھوٹی بات کی طرف بھی توجہ دلا دی اور پھر اس کے نتیجے کے طور پر بڑی بڑی جنتوں کی خبریں دیں تا کہ ہر طرح سے معاشرے میں سلامتی پھیلانے کے لئے ہر مومن کوشش کرے۔تو جب ان لوگوں سے سلامتی کا پیغام پہنچاتے ہوئے ہم تعلق رکھیں گے، جب ان لوگوں کو یہ پتہ چلے گا کہ یہ لوگ بے غرض ہو کر ان سے تعلق رکھ رہے ہیں ، ان کے یہ تعلق ہماری ہمدردی کے لئے ہیں، تو یہ لوگ خوش بھی ہوتے ہیں اور حیران بھی ہوتے ہیں کیونکہ اس کی ان کو عادت نہیں ہے۔ان باتوں کا ، اس خوشی کے اظہار کا، ان کی باتوں اور خیالات سے بڑا واضح پتہ لگ رہا ہوتا ہے۔اس تعلق کو بڑھانے کی وجہ سے فطرت کی جو آواز ہے۔اگر نیک فطرت ہے تو فطرت تو ہر ایک سے یہ چاہتی ہے کہ نیکی کا سلوک ہو۔فطرت کی وہ آواز ان کے اندر بھی انگڑائی لیتی ہے۔وہ بھی اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے ہمسائے ہمارے سے نیک تعلق کی وجہ سے رابطہ رکھ رہے ہیں۔کوئی مفاد یا ذاتی منفعت حاصل کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔الا ماشاء اللہ اکثریت اس بات پر خوش ہوتی ہے۔جب سے میں نے ان مغربی ممالک کے رہنے والوں کو خاص طور پر ہمسایوں سے اچھے تعلق رکھنے کی طرف توجہ دلائی تھی بعض جگہ سے بہت خوش کن رپورٹ آئی ہیں۔وہی لوگ جو پاکستانی یا ایشین مسلمان ہمسایوں سے خوفزدہ تھے جب ان کے یہ تعلق بڑھنے شروع ہوئے ، عید، بقر عید پر، ان کے تہواروں پر، جب تھے ان کی طرف جانے شروع ہوئے تو اس کی وجہ سے ان میں نرمی پیدا ہونی شروع ہوگئی ، ان کے خوف بھی دور ہوئے۔وہی لوگ جو اسلام کو شدت پسند اور امن بر باد کرنے والا مذہب سمجھتے تھے اسلام کی سلامتی کی تعلیم سے متاثر ہورہے ہیں۔مسجد فضل کے حلقے میں بھی دو سال سے ہمسایوں کو بلا کر ان کی دعوت وغیرہ کی جاتی ہے۔علاوہ اس ذاتی تعلق کے جو لوگ اپنے طور پر گھروں میں بھی کرتے ہوں گے۔اس سال بھی جو انہوں نے فنکشن کیا تھا میں اس میں شامل ہوا تھا تو میں نے ہمسایوں کے تعلق میں جب ان کے سامنے اسلامی تعلیم پیش کی تو سب نے حیرت اور خوشی سے اس کو سنا اور اس کا