خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 229

خطبات مسرور جلد پنجم 229 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء حقارت کی نظر سے دیکھے۔(مسلم كتاب البر والصلة۔بات تحريم ظلم المسلم وخذله حدیث نمبر (6346 غریبوں اور مسکینوں کو جو بعض لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ، ان کے لئے بڑی فکر والی بات ہے۔میں ضمناً یہاں یہ ذکر کر دوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں تیموں کی خبر گیری کا نظام ہے، پاکستان میں بھی ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے جو باقاعدہ جائزہ لے کر ان کی تعلیم کا ، ان کے رہن سہن کا مکمل خیال رکھتی ہے اور اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی ، خاص طور پر افریقن ممالک میں بھی اللہ کے فضل سے کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی ضروریات پوری کی جائیں۔اس کے لئے یتامی کی خبر گیری کے لئے ایک فنڈ ہے، اس میں بھی احباب جماعت کو دل کھول کر مددکرنی چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ قیموں کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔اسی طرح غریب بچیوں کی شادیوں کے لئے جو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مریم فنڈ کی تحریک کی تھی۔شروع میں تو اس طرف بہت توجہ تھی اور جماعت نے بھر پور حصہ لیا، بچیوں کی شادیوں میں کوئی روک نہیں تھی۔اب بھی اللہ کے فضل سے کوئی روک تو نہیں ہے لیکن جس کثرت سے، جس شوق سے جماعت کے افراد اس میں حصہ لے رہے تھے اور چندہ دیتے تھے، رقمیں آرہی تھیں اس طرح اب نہیں آرہیں۔تو اس طرف بھی جماعت کو اور خاص طور پر مخیر حضرات کو توجہ کرنی چاہئے۔یہ قیموں، غریبوں اور مسکینوں سے حسن سلوک ہے جو یقینا ان حسن سلوک کرنے والوں کے لئے جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس دار السلام کی خوشخبری دیتے ہیں کہ انہوں نے چندلوگوں کی بہتری اور سلامتی کے لئے کوشش کی ، ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی حفاظت اور رحمت میں رکھے گا اور اسے جنت میں داخل کرے گا جو کمزوروں پر رحم کرے، ماں باپ سے محبت کرے اور خادموں اور نوکروں سے اچھا سلوک کرے۔(ترمذى كتاب صفة القيامة والرقائق باب نمبر 48 حدیث نمبر (2494 پھر معاشرے کی سلامتی صلح اور محبت کی فضا پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ ہمسایوں سے اچھا سلوک کرو۔اور صرف رشتہ دار ہمسایوں سے اچھا سلوک نہیں کرنا کہ اس میں 100 فیصد بے نفسی اور صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے حسن سلوک نظر نہیں آتا بلکہ غیر رشتہ داروں سے بھی کرنا ہے۔یعنی رشتہ داروں سے حسن سلوک میں تو پسند اور نا پسند کا سوال آ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ جو اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے اس کا تو تب پتہ لگے گا کہ غیروں سے بھی حسن سلوک کرو۔جو غیر رشتہ دار ہمسائے ہیں ان سے بھی حسن سلوک کرو۔ہمسایوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قدر تلقین کی گئی ، اس قدر تواتر سے آنحضرت ﷺ کو اس طرف توجہ دلائی گئی کہ آپ نے فرمایا کہ مجھے خیال ہوا کہ شاید اب ہمسائے ہماری وراثت میں