خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 223
خطبات مسرور جلد پنجم 223 (22) خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء ( فرمودہ مورخہ یکم جون 2007ء ( یکم احسان 1386 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَثْمَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ الله لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (النساء: 37) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتیموں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی ، اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے ، یقینا اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر اور شیخی بگھارنے والا ہے۔گزشتہ خطبہ میں گھروں میں سلام کرنے اور سلامتی کا پیغام پہنچانے کے حوالے سے بات ہوئی تھی کہ گھروں میں سلامتی کی فضاء اللہ تعالیٰ کا سلامتی کا پیغام پہنچانے سے قائم ہوتی ہے۔ان سلامتی کے تحفوں سے سلامتی کے سوتے پھوٹیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور سلامتی کا پیغام پہنچانے والے خود اپنے لئے بھی دارالسلام کے دروازے کھول رہے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے اپنے گھر والوں کے لئے بھی یہ دروازے کھلوا ر ہے ہوتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ اسلام کا یہ سلامتی کا پیغام معاشی، معاشرتی اور بین الاقوامی سلامتیوں کا پیغام ہے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں اپنے گھروں میں اور اپنے دوستوں اور عزیزوں کے گھروں میں اس خوبصورت پیغام کو پہنچانے کی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تلقین فرمائی ہے اس کا ذکر کیا تھا۔جس سے صلح اور سلامتی کی فضا قائم کرنے اور دوسروں کو ہر قسم کے ظلموں سے محفوظ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا تھا۔میں نے جو آیت تلاوت کی ہے یہ سورۃ النساء کی آیت 37 ہے۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے گو براہ راست نہیں لیکن احسان کے رنگ میں جن باتوں کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ، یہ کرو۔ان سے سلامتی کا پیغام دنیا کو پہنچتا ہے اور ہر اس طبقے کو پہنچتا ہے جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔اور اگر ایک انسان، ایک مسلمان، ایک مومن اس پر عمل کرے تو معاشرے میں سلامتی کی فضا قائم ہونا یقینی امر ہے۔اس ایک آیت میں محبت صلح اور سلامتی کا معاشرہ قائم کرنے کے لئے جو ہدایات بیان کی گئی ہیں وہ گیارہ