خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 224

224 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء خطبات مسرور جلد پنجم ہدایات ہیں جن پر عمل کر کے ایک خوبصورت معاشرہ جنم لے سکتا ہے جو سلامتی کی خوشبو سے معطر معاشرہ ہوگا۔اس میں پہلی بات جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرو، وہ بات جو اللہ تعالیٰ کے حق سے تعلق رکھتی ہے یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔فرمایا وَ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، ایک مسلمان تبھی مسلمان کہلا سکتا ہے جب اسلام کے اس بنیادی مقصد کو سمجھنے والا ہو جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔کیونکہ اس مقصد کو حاصل کئے بغیر اسلام کی حقیقی روح پیدا نہیں ہو سکتی ، خدا تعالیٰ کی صفات کا ادراک نہیں ہوسکتا اور ایک انسان، ایک مومن صفت السلام سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے اس کی برکات سے فیضیاب نہیں ہو سکتا۔پس اس بنیادی چیز کو ہر مسلمان مومن کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے تا کہ سلامتی کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اس سے خود بھی فیضیاب ہو سکے اور اپنے ماحول کو بھی اس سے فیض پہنچا سکے۔جب اس حقیقت کو سمجھ لو ، جب اس مقصد کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنالو، تو فرمایا پھر حقوق العباد کی کوشش کرو، اس کے قیام کی کوشش کرو، جس کی اس آیت میں تفصیل بیان کی گئی ہے کہ یہ نیک سلوک جو تم ایک دوسرے سے کرو گے، معاشرے کی سلامتی کی ضمانت بن جائے گا۔پھر آخر میں جس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے بھی ہے اور بندوں کے حقوق سے بھی ہے۔اب ایک ایک کر کے میں ان حکموں کو لیتا ہوں جو معاشرے کے ہر طبقے میں صلح ، سلامتی اور پیار کی فضا پیدا کرنے اور قائم کرنے کی ضمانت دیتے ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ حکم دیا گیا کہ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا یعنی والدین کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کا معاملہ کرو۔اس بات کی طرف توجہ دلا دی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے بعد تمہیں والدین کو ہر شر سے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ انہوں نے بھی تمہیں بچپن میں ہر شر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔تمہارے والدین ہی ہیں جو تمہاری صحت و سلامتی کے لئے تکلیفیں اٹھاتے رہے۔پس آج بڑے ہو کر تمہارا فرض بنتا ہے کہ ان کے حقوق ادا کرو۔ایک جگہ فرمایا اگر ان پر بڑھاپا آ جائے تو انہیں اُف تک نہ کہو، ان کی باتیں مانو۔ایک جگہ فرمایا کہ یہ دعا کرو کہ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل : 25) پس یہ دعا بھی اس لئے ہے کہ تمہارے جذبات تمہارے خیالات ان کے لئے رحم کے رہیں اور پھر یہ دوطرفہ دعا ئیں ایک دوسرے پر سلامتی برسانے والی ہوں۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے والدین سے احسان کا سلوک کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور شکر گزار بندہ بننے کا ذکر فرمایا۔فرماتا ہے وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسَنًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرُهَا۔وَحَمْلُهُ وَفِصْلُهُ | تَلْقُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةٌ۔قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَاَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (الاحقاف : 16) اور ہم نے انسان کو تاکید کی نصیحت کی کہ اپنے والدین سے احسان کرے۔