خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 130
130 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کے لئے ایک روک ہوتی ہے اور اللہ تعالی کی روک دنیا میں اس کے محارم ، نواہی ، مناہی ہیں۔خوب یاد رکھو کہ جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ ٹھیک ہو تو سارا بدن ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہوتا ہے اور وہ دل ہے۔(صحیح بخاری کتاب الايمان باب فضل من استبراء لدينه حديث نمبر (52) اللہ تعالیٰ نے ایک تو واضح واضح احکام فرما دیئے کہ یہ کرنے ہیں اور یہ نہیں کرنے۔بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں جب کسی شک و شبہ کی گنجائش پیدا ہو تو ان سے بچنا چاہئے۔تقویٰ یہی ہے۔کیونکہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں سے منع کیا ہے اس کی مثال اس طرح ہے کہ جس طرح کسی بادشاہ کی کوئی رکھ ہو اور وہاں باڑ لگی ہو۔فصلیں لگی ہوں اور کوئی اپنی بکریاں چراتا ہوا ان میں چلا جائے۔پھر فرمایا کہ یہ دل ایک لوتھڑا ہے، جو انسان کے جسم میں ہے۔اگر یہ ٹھیک ہو تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے۔اگر یہ خراب ہو جائے تو سارا جسم جو ہے، بدن جو ہے، وہ خراب ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اوامر ونواہی جو ہیں جس کے کرنے کا اور نہ کرنے کا اس نے حکم دیا ہے۔اس کے مطابق زندگی گزارنا اس مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کے رحم کو جزا سزا کے دن جذب کرنے والا ہے۔ورنہ انسان اللہ تعالیٰ کی سزا کے نیچے آ سکتا ہے اور دل کی نشاندہی فرما دی کہ تمہارے دلوں سے ہی نیکی اٹھنی ہے اور انہی میں سے بیماریاں پنپتی ہیں۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے تو اس کو ہر قسم کے گند سے پاک کرو۔بعض چیزیں دیکھ کے انسان بعض دفعہ برائی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔اس کو احساس نہیں رہتا کہ کس گناہ میں پڑنے لگا ہے۔اس لئے ہمیشہ دل پر نظر رکھنی چاہئے کہ یہی دل ہے جس میں آئے ہوئے خیالات اور اس کے بعد کئے گئے عمل کے مطابق پھر آپ اللہ تعالیٰ سے اجر پانے والے بھی ہو سکتے ہیں اور اس کی سزا کے مور د بھی بن سکتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ذکر کرنے والوں کی تلاش میں رستوں میں نکلتے ہیں۔جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کو پالیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اپنی حاجتیں بیان کرو۔پھر وہ ایسے لوگوں کو ورلے آسمان تک گھیرے رکھتے ہیں۔ان کا رب ان سے پوچھے گا حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ وہ کہیں گے کہ وہ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری حمد کرتے ہیں اور تیری بڑائی بیان کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے کہیں گے اے اللہ ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔پھر اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ فرشتے کہیں گے کہ اگر وہ تجھے دیکھے لیتے تو تیری زیادہ عبادت کرتے اور تیری بڑائی شدت کے ساتھ بیان کرتے اور تیری تسبیح کثرت کے ساتھ کرتے۔پھر اللہ فرمائے گا کہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ تو فرشتے کہیں گے کہ وہ جنت مانگ رہے تھے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ تو فرشتے جواب دیں گے اے اللہ انہوں نے اس کو نہیں دیکھا۔پھراللہ تعالیٰ