خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 131

131 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم فرمائے گا کہ اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا حالت ہوتی۔وہ عرض کریں گے کہ وہ اگر اس کو دیکھ لیتے تو اس کے حصول کی خواہش اور رغبت ان میں بہت زیادہ بڑھ جاتی۔پھر اللہ پوچھے گا کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ فرشتے جواب دیں گے کہ آگ سے بچنے کی۔اللہ فرمائے گا کہ کیا انہوں نے اُسے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ! انہوں نے نہیں دیکھا۔اللہ فرمائے گا کہ اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ تو فرشتے جواب دیں گے اے اللہ ! وہ اگر اسے دیکھ لیتے تو اور زیادہ ڈرنے والے اور اس سے زیادہ دور بھاگنے والے ہوتے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا، ان کے اس عمل کی وجہ سے ، جنت کی خواہش کی وجہ سے ، آگ سے ڈرنے کی وجہ سے ان کو بخش دیا۔فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرے گا کہ ان میں ایک بندہ ایسا بھی تھا جو اپنی کسی ضرورت کے لئے وہاں آ گیا تھا۔اللہ فرمائے گا یہ ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والے بھی بد نصیب نہیں ہوتے۔اسے بھی بخشتا ہوں۔(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذكر الله عز وجل حدیث نمبر (6408 | یہ مالک کا احسان اور انعام ہے کہ نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھنے والوں کو بھی بخش دیتا ہے۔نیکی کو بغیر دیکھے اس کی خواہش کرنے والوں کو بخش دیتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہاں عدل کا سوال نہیں ہے۔یہاں احسان تقسیم ہو رہا ہے۔اس کا احسان اس کی مالکیت کے ثبوت کے تحت ہی ہے۔ان نیک لوگوں میں بیٹھنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ بخش رہا ہے اور فیض پہنچارہا ہے۔پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفت مالکیت کے تحت اپنے بندے کے اچھے اور برے اعمال کے لحاظ سے اس سے کیا سلوک کرتا ہے۔کس طرح اس کی نیکیوں اور بدیوں کا اندراج فرماتا ہے جو کہ جزا سزا کے دن سامنے آنا ہے۔اس میں بھی کتنی رعایت ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں اور بدیوں کو لکھ رہا ہے پھر ان کو بیان بھی کر دیا ہے۔پس جس نے نیکی کرنے کا ارادہ کیا لیکن اسے نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں ایک نیکی شمار کرے گا۔نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہ کیا تو نیکی شمار ہوگی۔اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور پھر اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے پاس سے دس سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔اور جو کوئی بدی کا ارادہ کرلے اور پھر اس پر عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے پاس ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔( بدی کا ارادہ کیا لیکن عمل نہیں کیا، جھٹک دیا، اللہ تعالیٰ نے نیکی لکھ دی ) اور وہ اگر اس کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک بدی کو شمار کرے گا۔(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب من هم بحسنة او بسيئة حديث نمبر (6491