خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 129
129 خطبہ جمعہ 30 مارچ 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم جائے۔وہاں پہنچ کر فرمایا کہ یہ قبر کس کی ہے اور اس کا قاتل کون ہے۔آپ نے چھری جس پر مدعی کا نام بھی لکھا تھا۔اور تاجر کے خون آلود کپڑے جو ساتھ ہی مدفون تھے۔وہ سب کچھ گڑھا کھودنے سے قبل ہی بتا دیا کہ یہاں یہاں پڑے ہیں اور یہ بھی بتا دیا کہ جو مدعی ہے یہ اس تاجر کا ، جو اس درویش کا باپ ہے، قاتل ہے جسے اس مدعی نے اپنی چھری سے سوئے ہوئے قتل کر دیا تھا۔اور خدا نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے اور دکھا بھی دیا ہے۔جیسے کہ بتایا تھا۔اسی طرح وہاں کی چیزوں کو دیکھا۔اسی کے مطابق قبر سے چھری بھی نکل آئی اور خون آلود کپڑے بھی نکل آئے۔چنانچہ جب حضرت داؤد نے مدعی قاتل کو قصاص کے طور پر قتل کا حکم سنایا تو اس پر مدعی کہنے لگا کہ جناب میں ملزم کو معافی دیتا ہوں اور مقدمہ واپس لیتا ہوں ، آپ بھی مجھے معاف فرما ئیں۔تو حضرت داؤد نے فرمایا کہ اب معافی نہیں دی جاسکتی۔اب وہی عدل جس کے متعلق عدل عدل کے الفاظ میں تم شور ڈالتے رہے ہو تمہارے ساتھ کیا جائے گا اور اسی کے مطابق عدالت کی کارروائی ہوگی۔اور اس کے بعد مدعی کو درویش کے تاجر باپ کے قصاص میں قتل کا آخری حکم سنایا گیا۔جس چھری سے تاجر کو قتل کیا گیا تھا اسی سے بعد اقرار جرم قاتل قتل کر دیا گیا اور جو کچھ مال و متاع مویشی اور رو پید اور جائیداد وغیرہ تاجر کی جو چیزیں غصب کی گئی تھیں وہ سب کی سب اس درویش کو جو تاجر کا بیٹا تھا اور وہ اصل وارث تھا اس کو دے دی گئیں۔(حیات قدسی حصه چهارم صفحه (165-16 اس طرح با وجود انتہائی پیچیدہ معاملے کے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو پوری چیز کھول کر دکھا دی اور انصاف ہو گیا۔جو عدل مانگ رہا تھا اُس کو عدل سے سزا مل گئی اور جس درویش نے سچ بولا تھا ، درویشی میں عمر گزاری۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے، اس کو اس کا اجر اللہ تعالیٰ نے دے دیا۔اگر وہ جو ملزم تھا غلطی مان لیتا تو اللہ کے پیارے بھی جو اس کا پر تو ہوتے ہیں اس پر رحم کرتے۔لیکن کیونکہ اس نے غلط بات پر اصرار کیا اور اپنے زعم میں دوسروں کو اپنی چالاکی سے دھوکہ دے رہا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ کے بندے کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کی وجہ سے سزا وار ہوا، سزا پا گیا۔اور جیسا کہ میں نے کہا وہ اللہ کا نیک بندہ تھا اپنی عاجزی اور نیکی اور سچائی کی جزا اس کوئل گئی۔اب میں بعض احادیث پیش کرتا ہوں جن میں آنحضرت ﷺ نے اس صفت سے فیض پانے کے جو طریق ہمیں سکھائے ہیں وہ بیان کئے گئے ہیں۔عامر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نعمان بن بشیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حلال اور حرام واضح واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان متشابہات ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے اور جو بھی متشابہات سے بچتار ہے اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی اس میں پڑ گیا وہ اس چرواہے کی طرح ہے جو اپنے جانور روکی گئی فصل کے قریب چراتا ہے ممکن ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائیں۔یادرکھو کہ ہر ملک ، بادشاہ