خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد پنجم 115 خطبہ جمعہ 23 مارچ 2007ء اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا“۔شرط چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کوعموما اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا ، نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے“۔شرط پنجم یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عسر اور ٹیسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہوگا اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کیلئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا“۔شرط ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کر لے گا۔اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر ایک راہ میں دستورالعمل قرار دے گا“۔شرط ہفتم یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا“۔آٹھویں شرط یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولا د اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز مجھے گا“۔نویں شرط یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا“۔دسویں شرط یہ کہ اس عاجز سے (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ) عقد اخوت محض اللہ با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔(مجموعه اشتهارات جلد اول صفحه 160-159 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه) آج جماعت احمدیہ کا خلافت سے جو رشتہ قائم ہے وہ بھی اس لئے ہے کہ اس عہد بیعت کے تحت ہر احمدی اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تعلق جوڑ رہا ہے اور پھر اس سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ اور خدا تعالیٰ سے تعلق قائم ہوتا ہے۔کاش آج کے مسلمان بھی یہ نکتہ سمجھے جائیں اور زمانے کے مسیح کا انکار کرنے کی وجہ سے طرح طرح کی جن مشکلات میں مبتلا ہیں، اُن سے نجات پائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشن جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا ، آنحضرت ﷺ کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا اور قرآن کریم کی حقانیت کو ثابت کرنا تھا۔اس مقصد کیلئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن ہونے کے بعد ایک پاک جماعت کے قیام کا اعلان فرمایا اور بیعت لی۔آپ کا آنحضرت ﷺ سے عشق انتہا کو پہنچا ہوا تھا اور