خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 114

خطبات مسر در جلد پنجم 114 خطبہ جمعہ 23 مارچ 2007ء جوش کو دیکھ کر آپ سے ارادت کا تعلق رکھنے والے بعض مخلصین آپ کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ آپ ہماری بیعت لیں۔لیکن آپ انکار فرماتے رہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اس بات کا حکم نہیں ملا۔حکم ملنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اعلان یکم دسمبر 1888ء کو تبلیغ کے نام سے شائع فرمایا جس میں آپ نے فرمایا کہ: میں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموما اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور کچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولی کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کا ہلانہ اور غذارانہ زندگی کے چھوڑنے کیلئے مجھ سے بیعت کریں۔پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لا زم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کیلئے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کیلئے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربانی شرائط پر چلنے کیلئے بدل و جان تیار ہوں گے۔یہ ربانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچادیا ہے۔اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے إِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (مجموعه اشتهارات جلد اول صفحه 158 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه یعنی جب تو نے اس خدمت کیلئے قصد کر لیا تو خدائے تعالیٰ پر بھروسہ کر اور یہ کشتی ہماری آنکھوں کے رُوبرو اور ہماری وحی سے بنا۔جولوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ تجھ سے نہیں، خدا سے بیعت کریں گے۔خدا کا ہاتھ ہو گا جو ان کے ہاتھ پر ہو گا )۔پھر آپ نے 12 جنوری 1889ء کو ایک اعلان تکمیل تبلیغ “ کے نام سے شائع فرمایا اور اس میں یکم دسمبر 1888ء کے اشتہار کا حوالہ دے کر 10 شرائط بیعت درج فرمائیں۔ان شرائط بیعت کو ہم سب جانتے ہیں لیکن یاد دہانی کیلئے تا کہ یاد تازہ ہو جائے اور احمدی بھی اس سے استفادہ کر لیں اور کیونکہ ایم ٹی اے بڑے وسیع حلقہ میں غیروں میں بھی سنا جاتا ہے وہ بھی اندازہ کرسکیں کہ یہ شرائط کیا ہیں، ان شرائط کو میں پڑھ دیتا ہوں۔پہلی شرط آپ نے فرمائی: ” بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔“ دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتارہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگر چہ کیسا ہی جذ بہ پیش آوے“۔شرط سوم یہ کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا