خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 116
خطبات مسرور جلد پنجم 116 خطبہ جمعہ 23 مارچ 2007ء آپ آنحضرت ﷺ کے مقام کی حقیقی پہچان رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اگر کسی کو پہچان تھی تو وہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوتھی۔آپ ایک جگہ آنحضرت ﷺ کے مقام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی ، وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارا فاضہ اُس کے کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے“۔(حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد 22 صفحه 118 119 ) پھر آپ فرماتے ہیں : وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے ، اپنے اعمال سے، اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً وعملاً وصدقا وثبات دکھلایا اور انسان کامل کہلایا۔وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مراہا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا ، وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء ، امام الاصفیاء، ختم المرسلين، فخر النبين جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔اتمام الحجة۔روحانی خزائن جلد 8 صفحه (308 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت سے بھی یہ توقع رکھتے تھے اور یہ تعلیم دیتے تھے کہ قرآن اور آنحضرت ﷺ سے سچا عشق اور محبت قائم ہو۔اسی لئے شرائط بیعت میں قرآن کریم کی تعلیم اپنے پر لاگو کرنے اور آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے کی طرف آپ نے خاص توجہ دلائی ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دینگے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جولوگ ہر ایک