خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 651
651 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والوں کی ایک نشانی یہ ہے، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان لانے والے وہ لوگ ہیں جو سجدہ کرتے ہیں اور کامل فرمانبرداری سے سجدہ کرتے اور اللہ کی تسبیح و تحمید کرنے والے ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہے کہ ایمان لا کر کہتے ہوں کہ ہاں ہم ایمان لائے اللہ پر ایمان کا دعوی ہو اور پھر اللہ رسول کے مخالفین کے ساتھ محبت کا سلوک بھی ہو۔ایک طرف تو یہ دعویٰ ہو کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان لیا اور دوسری طرف امام کے مخالفین کے ساتھ دوستیاں بھی ہوں تو یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ایمان کی نشانی تو یہ ہے کہ تم اللہ اور رسول اور نظام سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے بنو۔دلوں میں کبھی اس بارے میں بال نہیں آنا چاہئے کہ یہ کیوں ہوا وہ کیوں ہوا بھی تم کامل الایمان کہلا سکتے ہو۔غرض اور بہت ساری باتیں جن پر اللہ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والوں کو کار بند ہونا چاہئے ، ان پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔اسی آیت میں جو میں نے پڑھی ہے ایک بات یہ بتائی گئی کہ یوم آخرت پر ایمان ہو۔اب اگر یوم آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ایسی باتیں انسان کر ہی نہیں سکتا جو اللہ تعالیٰ پر ایمان میں کمزوری پیدا کرنے والی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ شیطان کے وساوس بہت ہیں اور سب سے زیادہ خطرناک وسوسہ اور شبہ جو انسانی دل میں پیدا ہو کر اسے خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَة کر دیتا ہے، آخرت کے متعلق ہے، کیونکہ تمام نیکیوں اور راستبازیوں کا بڑا بھاری ذریعہ منجملہ دیگر اسباب اور وسائل کے آخرت پر ایمان بھی ہے۔اور جب انسان آخرت اور اس کی باتوں کو قصہ اور داستان سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ رڈ ہو گیا۔اور دونوں جہاں سے گیا گزرا ہوا اس لئے کہ آخرت کا ڈر بھی تو انسان کو خائف اور ترساں بنا کر معرفت کے سچے چشمے کی طرف کشاں کشاں لئے آتا ہے۔اور سچی معرفت بغیر حقیقی خشیت اور خدا ترسی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔پس یا درکھو کہ آخرت کے متعلق وساوس کا پیدا ہونا ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے اور خاتمہ بالخیر میں فتور پڑ جاتا ہے۔پس جسے آخرت کا خوف ہوگا اس کو سچی معرفت بھی ہوگی۔وہی نیکیوں میں ترقی بھی کرے گا اور اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرے گا۔اور ایسے لوگوں کی عبادت کو اللہ تعالیٰ نے پھر عبادت قرار دیا ہے اور یہ مسجد میں آباد کرنے والے لوگ ہیں۔پھر فرمایا کہ مسجدیں آباد کرنے والے نماز کا قیام کرنے والے ہیں۔مسجد کیلئے تھوڑا سا چندہ دے کر یہ نہیں سمجھتے کہ ہم نے جماعت پر بڑا احسان کر دیا ہے کہ مسجد کی تعمیر میں رقم دے دی ہے بلکہ مسجد میں تعمیر کرنے کے بعد ان کی آبادی کی فکر کرتے ہیں۔نماز با جماعت کیلئے مسجدوں میں آتے ہیں۔فجر کی نماز پر بستروں میں پڑے اینٹھتے نہیں رہتے۔آج کل تو یہاں بڑی لمبی راتیں ہیں گرمیوں کی راتوں میں اکثر کی ایمانی حالتوں کا پتہ چلتا ہے۔پس نماز با جماعت کی طرف بھی ایک فکر کے ساتھ توجہ ہونی چاہئے۔پھر مسجدیں آباد کرنے والوں کی نشانی یہ بتائی کہ زکوۃ ادا کرنے والے ہیں۔ایک دفعہ مسجد کی تعمیر میں چندہ دے کر ایک بڑی رقم بھی اگر دے دی ہے تو اس کے بعد آزاد نہیں ہو گئے بلکہ زکوۃ اور دوسرے kh5-030425