خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 652 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 652

خطبات مسرور جلد چهارم 652 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء جماعتی چندوں کی طرف بھی ایک فکر کے ساتھ متوجہ رہتے ہیں۔اگر یہ توجہ قائم رہے گی اور اللہ کا خوف سب خوفوں پر غالب رہے گا کوئی ایسی حرکت نہیں ہوگی جو خلاف اسلام اور خلاف شرع ہو بندوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوں گے تو پھر آپ کو مسجدیں وہ نظارے پیش کریں گی جو عابدوں اور زاہدوں کے نمونوں سے نظر آتے ہیں۔یہ لوگ پھر اللہ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوتے ہیں اور جس مقصد کو لے کر اٹھتے ہیں اس میں پھر کامیابیاں حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔وہ اپنی دعاؤں کے تیروں سے مخالفین کے حملوں کو نا کام کر دیتے ہیں۔پس اس سوچ کے ساتھ مسجدیں بنائیں اور انہیں آباد کریں تو جہاں آپ اپنی عاقبت سنوار رہے ہوں گے، اپنی آخرت سنوار رہے ہوں گے وہاں دنیا کی قسمت بھی سنوار نے والے بن رہے ہوں گے۔ورنہ دنیا میں ایسی مساجد ہیں اور خاص طور پر اس زمانے میں جو مسلمانوں نے خود ہی اسلام کی شکل بگاڑ دی ہے کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو آواز دینے والی ہیں۔اس حالت کا نقشہ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا ہے۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا ، الفاظ کے سواقر آن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانے کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی۔لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِّنَ الْهُدَى ، علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ان میں سے فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔(مشکوۃ المصابيح - كتاب العلم الفصل الثالث - حدیث نمبر ۲۷۶) تو کیا ان مسجدوں میں نمازیں نہیں ادا کی جاتیں۔آج کل تو ہمارے مخالف زیادہ زور سے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ظاہری نمازیں پڑھتے ہیں سب کچھ کرتے ہیں لیکن جو اللہ تعالیٰ نے شرط بتائی ہے ایمان کی اس کو وہ زمانے کے امام کو نہ مان کر پورا نہیں کر رہے۔پس یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل فرمایا ہے اس پر اور زیادہ اللہ تعالی کے آگے جھکیں اور اس کے بتائے ہوئے حکموں پر عمل کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں تا کہ یہ فضلوں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ”مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔پس آج جب ہم نئی مساجد بنا رہے ہیں اس سوچ کے ساتھ بنائیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے اس کی تعمیر اور آبادی کرنی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔kh5-030425