خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 650 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 650

خطبات مسرور جلد چهارم 650 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔یہ وہ سبق ہے، یہ وہ حکم ہے، جو ہر حدی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بغیر اللہتعالیٰ پر کامل و مکمل ایمان کے یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہم اللہ کا گھر بنا رہے ہیں جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔اللہ پر ایمان کی شرائط جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں وہ کیا ہیں؟ صرف اتنا کہہ دینا کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔یہ کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کے لئے بعض شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے پر ایمان لانے والے کی ایک شرط یہ ہے کہ ایمان لانے میں سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتا ہو۔فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ امَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرة: 166) ہر غیر اللہ کاروبار روپیہ جائیدادسونا چاندی زیور رشتہ دار اولاد کی ایک مومن کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہئے ، نہ کسی مخفی شرک میں مبتلا ہو، نہ کسی ظاہری شرک میں مبتلا ہو۔ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مسجدوں میں ہر قسم کے لالچ اور مفاد سے بالا ہو کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے آتے ہیں۔پھر ایک نشانی اللہ پر ایمان والوں کی یہ بتائی کہ جب اللہ کا نام ان کے سامنے لیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔فرمایا اِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال : 3 ) کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات ان کے سامنے بیان کئے جائیں تو فوراً توجہ کرتے ہیں ڈرتے ہیں کہ نافرمانی سے کہیں پکڑے نہ جائیں، کسی گرفت کے نیچے نہ آجائیں۔مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض لوگ چاہے چند ایک ہی ہوں یہاں یا دنیا میں کہیں بھی بڑے انہماک سے خطبے بھی سنتے ہیں، جماعت کے اجلاسوں میں بھی شامل ہوتے ہیں لیکن عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا کام ہے اللہ رسول کی باتیں بتانا۔انہوں نے بتا دیں تم نے بھی سن لیں ہیں نے بھی سن لیں لیکن کروں گا وہی جو میرا دل کرے گا۔یعنی فیصلہ درست ہے لیکن پر نالہ وہیں رہتا ہے۔تو ایسے لوگ خود ہی جائزے لیں کہ وہ ایمان کی کس حالت میں ہیں۔ایمان لانے والوں کی پھر ایک نشانی یہ ہے کہ ہر دن ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ہر روز ایک نئی پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔اپنے یہ جائزے اب آپ نے خود لینے ہیں کہ کیا ہر دن جو چڑھتا ہے وہ آپ کے ایمان میں اور آپ کے اندر اللہ کے خوف میں زیادتی کا باعث بنتا ہے یا وہیں ڑکے ہوئے ہیں جہاں کل تھے۔ایک نشانی یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں، اس کا پہلے بھی ذکر کیا ہے، تو یہ نہیں کہتے کہ ہم نے سن لیا جو دل چاہے گا کریں گے۔بلکہ کہتے ہیں سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہ ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا۔پس اگر یہ جواب نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی کامل نہیں اور پھر مسجدیں آباد کرنے والوں میں شمار نہیں ہو سکتے۔یہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف فرمائی ہے۔kh5-030425