خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 649 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 649

خطبات مسرور جلد چهارم 649 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء بنا دو۔اس کا میں پہلے بھی کئی دفعہ ذکر چکا ہوں کہ مسجدیں ہی ہیں جو تمہارا تعارف کروائیں گی۔پس مسجدوں کا جال آپ کی تبلیغ میں آسانیاں پیدا کرے گا۔اس لئے اس طرف خاص طور پر کوشش کریں۔اللہ کرے کہ ہم یہ کام جلد سے جلد سرانجام دینے والے بن جائیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مشرقی جرمنی میں اس پہلی ایک مسجد پر خوش نہ ہو جائیں بلکہ اور مسجدیں بنانے کی بھی کوشش کریں۔اللہ تعالی سامان پیدا فرمائے۔پھر برلن میں جماعت کی تاریخ اور مسجد بنانے کے حوالے سے خلافت ثانیہ کے دور میں ایک تاریخ کا صفحہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں لکھا ہے کہ جرمنی میں سب سے پہلے پروفیسر فرنیزی ایل ایل ڈی اور ڈاکٹر او سکا جیسے قابل مصنفوں کو احمدیت کی طرف توجہ ہوئی اور ان کے دیکھا دیکھی برلن کے کالجوں کے پروفیسروں اور طلباء میں بھی تحقیق سلسلہ کی جستجو پیدا ہوگئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ یہاں شاندار اسلامی مرکز قائم کرنے کا تھا اور اسی لئے مسجد برلن کی تحریک بھی آپ نے فرمائی۔مگر جرمنی کے حالات بدل گئے اور کاغذی روپیہ کی عملی صورت بھی منسوخ ہو گئی۔سونے کا سکہ بھی جاری ہو گیا۔مسجد برلن کیلئے پہلے تمہیں ہزار کا اندازہ کیا گیا تھا پھر 15 لاکھ روپے کا اندازہ ہوا۔تو ان حالات کی بناء پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تعمیر مسجد کا کام ملتوی کر دیا اور فیصلہ فرمایا کہ یورپ میں دومرکز رکھ کر طاقت تقسیم کرنے کی بجائے دار التبلیغ لندن ہی مضبوط کیا جائے اور اس سے وسط یورپ میں تبلیغ اسلام ہو۔یہ فیصلہ مارچ 1924 ء میں ہوا اور مئی 1924 ء میں یہاں جرمنی میں جو مشن ہاؤس تھا وہ بند کر دیا گیا۔آج جماعت پر اللہ کا فضل ہے کہ یہاں جرمنی کی جماعت احمدیہ اور مسجدوں کے علاوہ اس کے ساتھ ساتھ برلن کی مسجد کی تعمیر کی بھی تیاری میں ہے۔اور جہاں 13 لاکھ روپیہ مشکل سے آتا تھا آج بہت ساری مساجد پر رو پیہ خرچ کر رہے ہیں اور اس کے باوجود میرا اندازہ ہے کہ اگر روپوں میں اسے دیکھا جائے تو سات آٹھ کروڑ روپے کا خرچ ہو جائے گا۔پس ان فضلوں کو ہمیں شکر گزاری کی طرف اور زیادہ مائل کرنے والا ہونا چاہئے۔پہلے سے بڑھ کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو یہاں کے لوگوں تک پہنچائیں۔اور آپ کا جو پیغام ہے، آپ نے جو مسجدیں بنانی ہیں اور آپ کے رویے جو ہیں ان کی وجہ سے یہ مسجد میں جو ہیں اس ملک میں امن کا شمبل (Symbol) بن جائیں۔امن و آشتی کا ایک نشان بن جائیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ہماری مسجدوں کے میناروں سے اللہ تعالیٰ کے نور کی کرنیں پھیلنی چاہئیں جس کا ادراک ہمیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی خوبصورت تعلیم کے ذریعہ سے کروایا ہے تو جب تک ہم اس نور کو پھیلانے والے نہیں بن سکیں گے تب تک ہم مسجدوں کے حقوق ادا نہیں کر سکیں گے۔اس لئے مسجدوں کی تعمیر کے مقصد کو جاننے والا بنا ہو گا کہ مقصد کیا ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَاتَى الزَّكَوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أَوْلِئِكَ اَنْ يَكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (التوبة : 18) الله kh5-030425