خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 57

خطبات مسرور جلد چهارم 57 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء بڑے زلزلے آئے ہیں ، ان کی تعداد گیارہ ہے۔اور گزشتہ سو سال میں جو زلزلے آئے ہیں، بشمول 1905 ء کا کانگڑہ کا زلزلہ ( جوان اعداد میں شامل نہیں کیا گیا لیکن میں نے اس کو شامل کیا ہے انکی تعداد 13 بنتی ہے۔یہ وہ زلزلے ہیں جن میں 50 ہزار یا اس سے زائد اموات ہوئیں۔کانگڑہ کے زلزلے کو شامل نہیں کرتے کیونکہ وہ انکے لحاظ سے 20-25 ہزار ہیں۔لیکن بعض پرانے اخباروں نے اس وقت 50-60 ہزار بھی لکھا تھا۔بہر حال جو بھی اعداد تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تھا اس لئے میں نے اس کو شامل کیا ہے۔کیونکہ بعض اخباروں نے اس وقت 50-60 ہزار تعداد لکھی تھی۔میں نے ایک اور زاویے سے بھی دیکھا ہے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کو بھول رہی ہے اور اب جونئی صدی میں داخل ہوئے ہیں یہ بھی بڑے دعووں سے داخل ہوئے ہیں۔دنیاوی ترقی کی ہی باتیں ہیں، خدا کی طرف رجوع کرنے کی باتیں نہیں ہیں۔یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے اور پچھلی صدی کو جو الوداع کہا گیا ہے وہ امیر ملکوں نے بڑے شور شرابے سے ہا ہو کر کے اس کو الوداع کیا۔بے تحاشار تمیں خرچ کیں، کسی کو یہ احساس نہیں ہوا کہ غریب ملکوں کو کسی طرح پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔بڑی بڑی نشانیاں بتا دیں کروڑوں روپے خرچ کر لئے ، پاؤنڈ ز خرچ کر لئے۔کروڑوں کیا بعض جگہ تو اربوں۔جیسا کہ میں نے کہانئی صدی کا استقبال بھی اس طرح ہوا کہ خدا تعالیٰ کا خانہ بالکل خالی ہے۔اور جو انسانی ہاتھوں سے دنیا میں بے چینی اور تباہی گزشتہ سالوں میں آئی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ایک جگہ کوائف ملے تھے پچھلے سوسال میں تقریباً 33 ممالک میں مختلف تباہیوں میں 9 کروڑ 50 لاکھ آدمی موت کے شکار ہوئے۔1900 ء سے لے کر 2000ءتک۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ گزشتہ صدی کو بھی انہوں نے نہیں سمجھا۔ساڑھے 9 کروڑ اموات کی کوئی قدر ان کے نزدیک نہیں تھی ، ان کو کسی نے نہیں دیکھا۔پھر بھی ان کے لئے امن پیدا کرنے کی کوشش ، اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کی کوشش نہیں کی اور اگلی صدی کے استقبال میں بھی وہ خانہ بالکل خالی رکھا۔تو یہ جو زلزلے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں جھنجھوڑا ہے۔قوموں کو جھنجھوڑا ہے، دنیا کو جھنجھوڑا ہے کہ ابھی بھی باز آ جاؤ۔میں نے ایک جائزہ لیا تھا کہ اس نئی صدی میں جب ہم داخل ہوئے ہیں تو کیا صورت حال ہوئی ہے۔تو جنوری 2001ء میں یعنی پہلے سال میں ہی انڈیا میں ایک بڑا زلزلہ آیا۔تقریباً 79 ریکٹر (Rechter) سکیل پر اس کا میگنی چیوڈ (Magnitude) تھا اور اس میں تقریباً 20 ہزار سے زائد آدمی مرے۔پھر 2003 ء میں ایران کا زلزلہ آیا۔پھر سونامی آیا جس میں کہتے ہیں 2 لاکھ 83 ہزار موتیں ہوئیں۔پھر پاکستان میں آیا ( ساری میں نہیں گن رہا) تو یہ پانچ بڑی بڑی تباہیاں نئی صدی کے پہلے پانچ سالوں میں آئی ہیں اور اندازہ ہے، ہمیں جائزہ لے رہاہوں کہ احمدیت کے سوسال پورے ہونے کے بعد 1989ء kh5-030425