خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد چهارم 56 56 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006ء وہ تباہ ہو گیا۔قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط کے قصے قرآن پاک میں موجود ہیں کہ کس کس طرح قوموں کو نیست و نابود کر دیا گیا۔ظلم کرنا ہی ظلم نہیں، ظلم پر خاموشی بھی ظلم ہے۔برائی کو دیکھ کر برائی سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں۔فتنہ فساد عام ہے۔چنانچہ قدرت کی طرف سے وارننگ اور آزمائش کے طور پر زلزلے آفات وغیرہ آتی ہیں۔معصوم لوگوں کی ہلاکت قدرت کی طرف سے ظلم نہیں۔یہ زلزلہ انسان کے لئے تنبیہ تھا تا کہ مسلمان راہ ہدایت پر قائم رہیں۔اس کے بعد پھر وہی حضرت عیسی کا ذکر اور وہی باتیں۔پھر کہتے ہیں امام مہدی کے ظہور کی علامتوں میں بھی برائی کا زور وشور ہے۔یعنی برائی پھیلے گی یہ بھی علامت ہے۔اس لئے اس زلزلے کو بھی ان کی آمد کی نشانیوں میں سے ایک قرار دے سکتے ہیں۔تنبیہ اور وارنگ کے باوجود لوگوں میں برائی پھیلتی چلی گئی۔تو پھر جب حد ہو جائے گی تو امام مہدی کا ظہور ہوگا۔گویا ابھی حد نہیں ہوئی۔پھر حافظ عبدالمنان صاحب کہتے ہیں کہ یہ ہماری کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ تھا۔اس میں ہلاک ہونے والے معصوم لوگوں کی وفات پر ہمیں افسوس ہے مگر ان کی ہلاکت ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقت آ جاتا ہے تو پھر کسی کو بھی بچنے کی مہلت نہیں ملتی۔ہمیں اس زلزلے کے بعد اپنے رویوں کو تبدیل کرنا چاہئے اور اپنے مالک کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔روزنامه پاکستان اشاعت خاص 14 اکتوبر 2005 ء ) اس کے علاوہ بھی بہت سارے علماء کے بیانات اس سپیشل نمبر میں آئے تھے۔تو بہر حال یہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ برائیاں تھیں اور ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وارننگ دی یا عذاب آیا۔لیکن اتنا ہی تسلیم کر لینا کافی نہیں ہے۔مسیح و مہدی کا ظہور تو ہو چکا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو ماننے کا حکم بھی ہے دعوی کرنے والا بھی موجود ہے۔خدا تعالیٰ نے زمینی اور آسمانی نشان بھی ظاہر فرما دیئے ہیں۔اب بھی اگر آنکھیں بند رکھنی ہیں تو پھر اللہ ہی لوگوں کو سمجھائے گا۔اور خود جو عالم بنے ہوئے ہیں، قوم کو تو یہ سمجھارہے ہیں، ان کو خود بھی تو سمجھنا چاہئے۔قرآن کریم نے جو پیشگوئیاں فرمائیں وہ پوری ہو گئیں پھر چاند اور سورج نے بھی گواہی دے دی۔تو اب اور مزید انتظار کے لئے رہ کیا گیا ہے۔اور پھر یہیں تک نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ 1905ء سے یہ نشانات ظاہر ہورہے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں ہو رہے ہیں۔1905ء میں کانگڑہ میں (ہندوستان میں ایک جگہ ہے ) وہاں بڑا زبر دست زلزلہ آیا تھا۔قادیان تک بھی اس کا اثر آیا تھا۔تو یہ جو نشانات ظاہر ہورہے ہیں یہ مسلمانوں کے لئے بھی وارننگ ہے اور غیر مسلموں کے لئے بھی وارننگ ہے۔سیلابوں کے ذریعہ سے ہسمندری طوفانوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بار بار توجہ دلا رہا ہے۔اس بارہ میں جو اعداد وشمار پیش کئے گئے ہیں۔اس کے مطابق دنیا میں گزشتہ گیارہ سو سال میں جو بڑے kh5-030425