خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 58 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 58

خطبات مسرور جلد چهارم 58 S9 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء کے بعد بھی ان میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اگر انسان سوچے تو یہ جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے۔یہ لوگوں کو، قوموں کو یاد دلانے کے لئے ہے کہ خدا کو پہچانو، آنے والے کی آواز پر کان دھرو۔ان گزشتہ 10-8 سالوں میں یا ہم کہہ سکتے ہیں احمدیت کے 100 سال پورے ہونے کے بعد سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز تقریباً ہر جگہ پہنچ چکی ہے۔پھر میں نے ایک جائزہ لیا تھا کہ احمدیت کے 100 سال 1989 ء میں جو پورے ہوئے، پورے کو ائف تو نہیں ملے، مثلاً انڈیا کے ملے تھے۔صرف انڈیا میں 1990 ء سے لے کر اب تک 6 بڑے زلزلے آئے ہیں جبکہ اس سے پہلے 1897 ء سے لے کر 1988 ء یہ تقریباً 1 9 سال بنتے ہیں ، 12 زلزلے آئے تھے۔اور دنیا کے دوسرے ممالک اس کے علاوہ ہیں۔اب یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا یہ اتفاقات ہیں یا تقدیر الہی ہے؟ یا لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لئے تنبیہ ہے؟۔امریکہ میں جو سمندری طوفان قطرینہ آیا، بہت سے لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔اس چیز کو وہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ایک چرچ کے ممبر نے لکھا کہ یہ طوفان ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کی ذات حقیقت ہے۔اب ایک خدا کی طرف بھی لوٹ رہے ہیں۔اور ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ گناہوں کے یہی نتائج ہیں۔اور بعض نے یہ بھی لکھا کہ ان گناہوں کی جگہوں پر یہ تو ایک طوفان آیا ہے بلکہ ان کے نیچے سے زلزلے بھی آسکتے ہیں، ان کے نیچے سے آتش فشاں بھی پھٹ سکتے ہیں۔یہ تو سب تسلیم کرتے ہیں کہ گناہوں کی سزا ہے اور ایک خدا کی پہچان کرنی چاہئے۔لیکن پھر چند دنوں بعد بھول جاتے ہیں کہ خدا کوئی چیز ہے بھی یا نہیں خدا سب طاقتوں کا مالک ہے بھی یا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور اسی طرح آپ کا مسیح بھی تمام دنیا کے لئے آیا ہے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اس لئے یہ طوفان، یہ زلزلے، یہ سیلاب، صرف ایک علاقے کے لئے نہیں ہیں بلکہ تمام دنیا پر پھیلے ہوئے ہیں۔ہر قوم کو، ہر ملک کو یہ وارننگ دی جا رہی ہے تو اس لحاظ سے ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ دنیا کو بتائیں کہ ان آفات سے نجات کا اب صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ خدا کو پہچانو اور ظلم اور نا انصافیوں کو ختم کرو۔پاکستان کے دو کالم نگار لکھتے ہیں، ایک نے نوائے وقت میں 1992ء میں لکھا تھا، پرانا حوالہ ہے کہ ”ہمارے عقیدہ کے مطابق مختلف ادوار میں مختلف قوموں اور قبیلوں پر ان کی سرکشی اور گمراہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔یہ عذاب زلزلے کی صورت میں ہو یا سیلاب یا طوفان کی شکل میں یا پھر پلیگ (Plague) یا جنگ کے انداز میں۔عذاب بہر حال عذاب ہوتا ہے۔پیغمبروں کا براہ راست اللہ تعالیٰ سے رابطہ اور واسطہ تھا۔وہ لوگوں کو خوشخبریاں بھی سناتے تھے اور آنے والے عذاب سے بھی ڈراتے تھے۔کچھ لوگ راہ ہدایت اختیار کر کے دنیوی اور اخروی عذاب سے kh5-030425