خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 553 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 553

553 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم ہوئی افراد جماعت نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مالی قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔ابھی کل ہی مجھے ایک دوست کا خط ملا ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ تحریک جدید کا نیا سال شروع ہونے والا ہے، میں اپنا وعدہ تین ہزار روپے لکھواؤں اور بیوی بچوں کی طرف سے اور بزرگوں کی طرف سے ملا کے میں اس سال اس کو بڑھا کر پانچ ہزار کر دیتا ہوں۔تو کہتے ہیں خیال آیا کہ ادا کس طرح ہوگا ؟ لیکن میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں نے بہر حال اللہ کی توفیق سے انشاء اللہ، اتنا ہی یعنی پانچ ہزار روپے کا وعدہ لکھوانا ہے۔کہتے ہیں اتنے میں ایک صاحب آئے اور ایک لفافہ مجھے دے گئے ، کھولا تو اس میں تین ہزار روپے تھے، کسی نے عید کے تھنے کے لئے بھیجے تھے۔تو کہتے ہیں میں اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر کر رہا تھا کہ ابھی تو سوچا ہی تھا کہ بڑھانا ہے تو اللہ تعالیٰ نے نواز دیا۔اسی دوران پھر ایک اور صاحب آئے ، ایک لفافہ آیا جس میں پانچ ہزار روپے تھے، باہر سے کسی دوست نے ان کو تحفہ بھیجا تھا۔تو کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ ابھی تو میں نے ارادہ ہی کیا ہے کہ وعدہ بڑھانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش شروع ہو گئی ہے۔تو اللہ تعالیٰ جس طرح اس نے فرمایا ہے بھر پور کر کے لوٹاتا ہے تو انہوں نے کہا چلو جب اس طرح آ رہا ہے تو وعدہ ہی پانچ ہزار کی بجائے دس ہزار کر دو اور پھر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تو یہ وعدہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک شروع ہوا ہے، تمہارا کیا ارادہ ہے؟ بیوی نے بھی اپنا وعدہ بڑھایا کہ میرا بھی اتنا لکھوا دیں۔میں ان کو ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں ان کے ذرائع ایسے نہیں ہیں کہ آسانی سے اتنا دے سکیں لیکن کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کا فہم و ادراک ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی پر یقین ہے، دین کی ضرورت کا خیال ہے، خلافت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک انعام سمجھتے ہیں، اس لئے بے خوف ہو کر یہ قدم اٹھایا۔اللہ تعالیٰ ان کے اور ایسے بہت سے دوسرے لوگوں کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔مالی جائزہ پیش کرنے کے سے پہلے میں ایک بات کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب تحریک جدید کا آغا ز فرمایا تو اس وقت بھی اور اس کے بعد بھی مختلف سالوں میں اس تحریک جدید کے بارے میں جماعت کی رہنمائی فرماتے رہے کہ اس کے کیا مقاصد ہیں اور کس طرح ہم ان مقاصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔اس وقت شروع میں آپ نے جماعت کے سامنے 19 مطالبات رکھے اور پھر بعد میں مزید بھی رکھے۔یہ تمام مطالبات ایسے ہیں جو تربیت اور روحانی ترقی اور قربانی کے معیار بڑھانے کے لئے بہت ضروری ہیں اور آج بھی اہم ہیں ، جماعتوں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔مثلاً پہلا مطالبہ سادہ زندگی کا ہے۔آج جب مادیت کی دوڑ پہلے سے بہت زیادہ ہے اس طرف kh5-030425