خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 552

552 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم میں بعض کام کر جاتے ہیں لیکن عموماً نیک مال کی اور قربانی کی قبولیت کی تصدیق بھی فوری ہو جاتی ہے۔میں جانتا ہوں بعض زمیندار ہیں وہ اپنا چندہ عام بھی دیتے ہیں اور پوری شرح سے بلکہ شاید زائد دے دیتے ہیں کیونکہ پہلے بجٹ لکھوا دیتے ہیں، تحریک جدید وغیرہ میں بھی اس امید پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کہ فصل یا باغ کی آمد ہو جائے گی اور بظاہر ایسی آمد والی فصل نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیتا ہے۔وہ اپنے وعدے بڑھا کر لکھوا رہے ہوتے ہیں اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ احمدی زمیندار کی فصل ساتھ والے ہمسایوں سے بہت اچھی ہوتی ہے، بہت بہتر ہوتی ہے۔مجھے کئی زمینداروں نے اپنے واقعات سنائے ہیں، غیر آ کر پوچھتے ہیں کہ تمہاری فصل بظاہر ہمارے جیسی تھی ، کیا وجہ ہے کہ ایسی اچھی نکل آئی ہے تو احمدی زمیندار کا یہی جواب ہوتا ہے کہ کیونکہ اس میں اللہ کا حصہ ہے اس لئے بہتر نکل آئی ہے۔اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو خرچ کر رہے ہیں وہ اپنے وعدے کے مطابق اُسے بہتر کر کے ہمیں لوٹا رہا ہے۔اسی طرح کا روبار میں اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیتا ہے۔جو چندہ دینے والے ہیں ان کے کاروباروں میں بہت برکت ہوتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ جو یہ نمونے ہمیں دکھاتا ہے تو یہ دکھا کر اپنے بندوں کے ایمانوں کو مضبوط کرتا ہے اور اس یقین پر قائم کرتا ہے کہ یہاں جو اس طرح انعامات ہو رہے ہیں تو اگلے جہان کے بارے میں جو انعامات کی نوید سنائی ہے وہ بھی غلط نہیں ہے وہ بھی یقینا سچی ہے۔آج پرانے احمدی خاندانوں میں سے بہت سے اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کے باپ دادا نے جو قربانیاں دی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کی اولادوں کو کتنا نوازا ہے بعض بزرگوں کی قربانیاں تو پھلوں سے اس قدر لدی ہوئی ہیں کہ اولادوں کے لئے انہیں سنبھالنا مشکل ہے۔جن کو اس بات کا پتہ ہے یا ادراک ہے کہ یہ فضل ان قربانیوں کا نتیجہ ہیں وہ پھر اللہ سے سودا کرتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر مالی قربانی پیش کرتے ہیں۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ سو دے کہ وہ سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کی قوت قدسیہ سے جو انقلاب آیا اور صحابہ نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے جان، مال کی جو قربانیاں کیں وہ ہمیں آپ کے غلام صادق کی جماعت میں بھی نظر آتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی جب ضرورت پڑی، کسی نے اپنے بیٹے کے کفن کی رقم چندے میں بھیج دی، کسی نے اپنی پس انداز کی ہوئی تمام رقم دینی ضروریات کے لئے چندہ میں دے دی، کسی نے اپنی تمام آمد اللہ تعالیٰ کے مسیح کے قدموں میں لا کر ڈال دی یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہنا پڑا کہ بس آپ لوگ بہت قربانیاں کر چکے ہیں، کافی ہیں ، مزید کی ضرورت نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد خلفاء کی طرف سے جب بھی کوئی تحریک kh5-030425