خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 554 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 554

خطبات مسرور جلد چهارم 554 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006ء احمدیوں کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کیونکہ سادگی اختیار کر کے ہی دین کی ضروریات کی خاطر قربانی دی جا سکتی ہے۔بعض لوگوں کو بلاضرورت گھروں میں بے تحاشا مہنگی سجاوٹیں کرنے کا شوق ہوتا ہے، سجاوٹ تو ہونی چاہئے ، صفائی بھی ہونی چاہئے، خوبصورتی بھی ہونی چاہئے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سجاوٹ صرف مہنگی چیزوں سے ہی ہوتی ہے۔تو بہت سارے ایسے بھی ہیں جو پیسے جوڑتے ہیں تا کہ سجانے کی فلاں مہنگی چیز خریدی جائے، بجائے اس کے کہ یہ پیسے جوڑیں کہ فلاں کام کے لئے چندہ دیا جائے۔پھر شادیوں ، بیاہوں پر فضول خرچیاں ہوتی ہیں۔اگر یہی رقم بچائی جائے تو بعض غریبوں کی شادیاں ہوسکتی ہیں، مساجد کی تعمیر میں دیا جا سکتا ہے، اور کاموں میں دیا جا سکتا ہے مختلف تحریکات میں دیا جا سکتا ہے۔پھر آپ نے اس وقت ایک یہ مطالبہ بھی کیا کہ دشمن کے گندے لٹریچر کا جواب تیار کیا جائے۔آجکل اسلام پر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے ہورہے ہیں۔اکثر ملکوں میں خدام الاحمدیہ کے ذریعہ سے مجلس سلطان القلم اچھی آرگنا ئز ہے، لیکن ابھی بھی اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔پھر آجکل مغربی معاشرے میں نام نہا د صوفی ازم بہت چلا ہوا ہے اس سے متاثر ہو کر مغرب میں نوجوان غلط راہوں پر چل پڑے ہیں۔مغربی معاشرے میں خدا تعالیٰ کی ذات کو بھی بہت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پچھلے دنوں کسی نے ایک کتاب بھی لکھی جو کرسمس سے پہلے آئی اور یہاں کی بہترین کتاب بیسٹ سیلر (Best Seller) کتاب کہلاتی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کی نفی اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی نفی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کے وجود سے انکار بھی یہاں مغرب میں فیشن بنتا جا رہا ہے۔تو جماعتی پروگرام کے تحت بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی اس چیز پر نظر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اپنے بچے، لڑکے، نوجوان بچیاں ان چیزوں سے متاثر نہ ہوں۔اس کے جواب کے پروگرام بنا ئیں۔صرف یہ کہنا کہ نہیں ، فضول ہے اس کی بجائے با قاعدہ دلیل کے ساتھ جواب تیار ہونے چاہئیں۔جو مختلف سوال اٹھ رہے ہیں وہ یہاں مرکز میں بھی بھجوائیں، مجھے بھی بھجوائیں تا کہ ان کے ٹھوس جواب بھی تیار کئے جائیں۔پھر ایک مطالبہ وقف عارضی کا ہے اس طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔باہر کی دنیا میں (باہر سے مراد یورپ اور مغربی ممالک، افریقہ وغیرہ) اگر آرگنائز کر کے اس مطالبے پر سارے نظام پر کام کیا جائے تو اپنوں کی تربیت کے لحاظ سے بھی اور تبلیغ کے لحاظ سے بھی بہت بہتری پیدا ہوگی ، جماعتیں اس طرف بھی توجہ کریں۔پھر وقف بعد از ریٹائر منٹ ہے۔ان مغربی ممالک میں بھی جماعتی ضروریات بڑھ رہی ہیں اور یہاں کیونکہ حکومت کی طرف سے، اداروں کی طرف سے سہولتیں ملتی ہیں اس لئے جو احمدی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ سہولیات لے رہے ہیں ان کو اپنے آپ کو جماعتی خدمات کے لئے پیش کرنا چاہئے۔جماعت سے مالی مطالبہ نہ ہو کیونکہ ان کی ضروریات تو ان سہولتوں سے جو وہ حکومت سے یا اداروں سے لے رہے kh5-030425