خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 480

480 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم ہر معاملے میں خدا کو یا در کھتے ہوئے اس سے مانگیں اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور دنیاو آخرت سنوار نے کے لئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ﴿ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان:78) کہ تو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ چونکہ خدا کے قانون میں یہی انتظام مقرر ہے کہ رحمت خاصہ انہیں کے شامل حال ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے، انہیں کو ملتی ہے کہ جو رحمت کے طریق کو یعنی دعا اور تو حید کو اختیار کرتے ہیں۔اس باعث سے جو لوگ اس طریق کو چھوڑ دیتے ہیں وہ طرح طرح کی آفات میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔خدا کو تو کسی کی زندگی اور وجود کی حاجت نہیں وہ تو بے نیاز مطلق ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اول صفحہ 563-564 بقیہ حاشیہ نمبر 11 پھر اس بارے میں فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ اگر تم نیک چلن انسان نہ بن جاؤ۔اور اس کی یاد میں مشغول نہ رہو تو میرا خدا تمہاری زندگی کی پرواہ کیا رکھتا ہے“۔( تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر 3 صفحہ 545) آپ فرماتے ہیں کہ مومن شخص کا کام ہے کہ پہلے اپنی زندگی کا مقصد اصلی معلوم کرے اور پھر اس کے مطابق کام کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَايَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : 78) خدا کو تمہاری پر واہ ہی کیا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو اور اس سے دعا ئیں نہ مانگو۔فرمایا کہ یہ آیت بھی اصل میں پہلی آیت وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون (الذاریات: 57) کی شرح ہے۔الحکم جلد 7 نمبر 14-31/ مارچ 1903ء صفحہ 6۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 185 جدید ایڈیشن) یعنی قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبّى لَوْ لاَ دُعَاؤُكُمْ کی جو آیت ہے اس میں اس کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔یعنی اس میں اس حکم کی مزید وضاحت آ گئی کہ انسان کی پیدائش کا مقصد عبادت کرنا ہے۔فرمایا ”خدا تعالیٰ دین سے غافلوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے پرواہ نہیں کرتا۔پس ثابت ہوا کہ جو دین سے غافل نہ ہوں ان کی ہلاکت اور موت میں خدا تعالیٰ جلدی نہیں کرتا“۔الحکم جلد 9 نمبر 5 مؤرخہ 10 فروری 1905 صفحہ 5 - ملفوظات جلد چہارم صفحه 461 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) فرمایا ” دعا میں لگے رہو۔۔۔ایک انسان جو دعا نہیں کرتا اس میں اور چار پائے میں کچھ فرق نہیں اس میں اور جانور میں کچھ فرق نہیں۔الحکم جلد 11 نمبر 32 مؤرخہ 10 ستمبر 1907 صفحہ 6 - ملفوظات جلد پنجم صفحہ 272 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ہمیں ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ یہ ایک انتہائی ضروری حکم ہے اور ہماری زندگیوں کے لئے انتہائی