خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد چهارم 479 38 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 2006 دعا کی فلاسفی اور مختلف قرآنی دعاؤں کا تذکرہ دعاؤں کی قبولیت کے جو لوازمات ہیں ان کو پورا کرنے والے بنیں گے تو انشاء اللہ ، اللہ کے وعدے کے مطابق دعائیں قبول بھی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو دعا کی قبولیت کے فلسفہ کو سمجھتے ہوئے اپنی دعاؤں کے معیار کو بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے فرموده مؤرخہ 22 /ستمبر 2006 ء(22 رتبوک 1385 ھش ) مسجد بیت الفتوح ،لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے جس کا اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ اس سے ہر ضرورت کے وقت مانگے اور اس کے لئے دعا کرے، حتی کہ جوتی کا تسمہ بھی مانگنا ہے تو خدا سے مانگے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین رہے، یہ احساس رہے کہ ہر بڑی سے بڑی چیز بھی اور ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اگر کوئی دینے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اس کے فضل کے بغیر ہمیں کچھ نہیں مل سکتا۔برائیوں سے بچنا ہے تو اس سے دعا مانگو کہ اے اللہ! مجھے برائیوں سے بچا۔نیکیاں بجالانی ہیں تو اس کے آگے جھکتے ہوئے ، اس سے توفیق مانگتے ہوئے نیکیاں بجالانے کی توفیق حاصل کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ ہم نیکیاں بجالا سکتے ہیں، نہ برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہ ہم جہنم کی آگ سے بچ سکتے ہیں، نہ اس کے فضل کے بغیر ہم دنیاو آخرت کی جنت کے نظارے دیکھ سکتے ہیں۔پس جب سب کچھ اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ملنا ہے تو کس قدر ضروری ہے کہ ہم