خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 481
خطبات مسرور جلد چهارم 481 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 2006 اہم امر ہے ، ضروری ہے کہ ہماری توجہ ہمیشہ دعا کی طرف رہے اور پھر اس سے بڑی خوشی کی بات اور ہماری بچت کی ضمانت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود یہ بھی فرما دیا کہ گو کہ تمہاری دنیا اور آخرت کے سنوارنے کے لئے دعا ضروری ہے۔مجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں لیکن مجھے تمہارے اس امر سے بہت خوشی پہنچتی ہے، جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ میرا ایک بندہ شیطان کے جال میں پھنسنے سے بچ رہا ہے۔تو میں تمہاری ان دعاؤں کو جو خالص میری رضا حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہیں اور مجھ پر توکل کرتے ہوئے کی جاتی ہیں ضرور سنتا ہوں اور جو متکبر ہیں ان کا ٹھکا نہ تو جہنم ہے۔فرماتا ہے کہ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ (المؤمن:61) اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو ہمیں تمہیں جواب دوں گا۔یقینا وہ لوگ جو میری عبادت کرنے سے اپنے تئیں بالا سمجھتے ہیں ضرور جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: استجابت دعا کا مسئلہ در حقیقت دعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہے۔ایک شاخ ہے۔اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ اور شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اس کو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھو کے لگتے ہیں۔اور دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق جاذبہ ہے۔یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔تب اس کی روح اُس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب میں جو اُس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔تب اللہ جلشانہ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔مثلاً اگر بارش کے لئے دعا ہے تو بعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبیعہ جو بارش کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں اور اگر قحط کے لئے بددعا ہے تو قادر مطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔اسی وجہ سے یہ بات ارباب کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل کی دعا میں ایک قوت تکوین پیدا ہو جاتی ہے“۔یعنی ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے جس سے کام مکمل ہو جائے۔” یعنی باذنہ تعالیٰ وہ