خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 476

476 خطبات مسرور جلد چہارم خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 نام ہیں اور پھر فرمایا يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں۔اور پھر فرمایا عَلى كُلِّ شَيْ ءٍ قدیر یعنی خدا بڑا قادر ہے۔یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا امید رکھیں۔اور پھر فرمایا رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا ، رحمن ، رحیم اور جزاء کے دن کا آپ مالک ہے۔اس اختیار کوکسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔اور پھر فرمایا الْحَيُّ الْقَيُّوْم یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو، تو اس کی زندگی کے بارے میں بھی دھڑ کا رہے گا شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے۔اور پھر فرمایا کہوہ خدا اکیلا خدا ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ کوئی اس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس“۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 372 تا 376) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مذہب جو عیسائی مذہب کے نام سے شہرت دیا جاتا ہے دراصل پولوی مذہب ہے، نہ سی۔کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہیں دی۔اور وہ جب تک زندہ رہے خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتے رہے اور بعد ان کی وفات کے ان کا بھائی یعقوب بھی جو اُن کا جانشین تھا اور ایک بزرگ انسان تھا، توحید کی تعلیم دیتا رہا۔اور پولوس نے خوامخواہ اس بزرگ سے مخالفت شروع کر دی اور اس کے عقائد صحیحہ کے مخالف تعلیم دینا شروع کیا۔اور انجام کار پولوس اپنے خیالات میں یہاں تک بڑھا کہ ایک نیا مذہب قائم کیا اور توریت کی پیروی سے اپنی جماعت کو بکلی علیحدہ کر دیا اور تعلیم دی کہ مسیحی مذہب میں مسیح کے کفارہ کے بعد شریعت کی ضرورت نہیں اور خون مسیح گناہوں کے دور کرنے کے لئے کافی ہے، توریت کی پیروی ضروری نہیں یہ اور پھر ایک اور گند اس مذہب میں ڈال دیا کہ ان کے لئے سو کھانا حلال کر دیا۔حالانکہ حضرت مسیح انجیل میں سو رکو نا پاک قرار دیتے ہیں۔تبھی تو انجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔پس جب پاک تعلیم کا نام حضرت مسیح نے موتی رکھا ہے تو اس مقابلہ سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ پلید کا نام انہوں نے سوررکھا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یونانی سور کو کھایا کرتے تھے جیسا کہ آجکل تمام یورپ کے لوگ سؤ رکھاتے ہیں۔اس لئے پولوس نے یونانیوں کے تالیف قلوب کے لئے سو ر بھی اپنی جماعت کے لئے حلال کر دیا۔حالانکہ توریت میں لکھا ہے کہ وہ ابدی حرام ہے اور اس کا چھونا بھی نا جائز ہے۔غرض اس مذہب میں تمام خرابیاں پولوس سے پیدا ہوئیں۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 374-375)