خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 475 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 475

475 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم ہیں بات بات پر بگڑتے ہیں اور اپنی خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں ت ظلم کو شیر مادر سمجھ لیتے ہیں۔ماں کے دودھ کی طرح پیتے ہیں۔پس یہ اسلام کا خدا ہے جو ہر ظلم سے پاک ہے۔مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو یا تو وہ کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی کو ہی الوداع کہتا۔بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ بچے انصاف پر چل رہا ہے۔پھر فرمایا السلام یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے، اس کے معنے بھی ظاہر ہیں۔کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا ، لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو اس کے بدنمونے کو دیکھ کر کس طرح دل تسلی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چھڑا دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ باطل معبودوں کے بارے میں فرماتا ہے ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوْا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهُ۔وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنْقِدُوْهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ۔إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ (الحج: 74-75) جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مل کر ایک ملتھی پیدا کرنا چاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں اگر ؟ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔بلکہ اگر مکھی ان کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ کبھی سے چیز واپس لے سکیں۔ان کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔نہ اس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہئے۔اور پھر فر مایا کہ خدا ان کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوسکتا۔اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہو گا۔کیونکہ اس کے پاس زبر دست دلائل ہوتے ہیں۔لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بیہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ اَلْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کام بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے اور فرمایا هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاسْمَاءُ الْحُسْنی یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا ، رحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آسکیں سب اُسی کے