خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 477 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 477

خطبات مسرور جلد چهارم 477 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 پوپ صاحب نے جو یہ کہا کہ یونانی فکر اور خدا پر ایسے ایمان کی جو کہ بائبل پر مبنی ہے گہری مطابقت ہے اصل میں یہ حضرت عیسی کا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ یونانیوں کو خوش کرنے کے لئے کوشش تھی۔جو انصاف پسند عیسائی ہیں ان کو پتہ ہے، وہ کہتے ہیں اسلام کا خدا کیا ہے۔ایڈورڈ گبن صاحب لکھتے ہیں کہ ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مذہب شکوک و شبہات سے پاک وصاف ہے۔قرآن خدا کی وحدانیت پر ایک عمدہ شہادت ہے۔مکہ کے پیغمبر نے بتوں کی، انسانوں کی اور ستاروں کی پرستش کو معقول دلائل سے رڈ کر دیا۔وہ اصول اول یعنی ذات باری تعالیٰ جس کی بنا عقل و وحی پر ہے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی شہادت سے استحکام کو پہنچی۔چنانچہ اس کے معتقد ہندوستان سے لے کر مرا کو تک موحد کے لقب سے ممتاز ہیں“۔(Edward Gibbon 'The History of the Decline and Fall of the Roman Empire' Vol۔V۔Pages | 177-178۔Penguins Classics(1st published 1788,this edition 1996) پس یہ اسلام کا خدا ہے جو عقل سے غور کرنے والے کو یہ کہنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ معقول عقلی دلائل اسلام کے خدا میں ملتے ہیں۔آخر میں میں ہر احمدی سے یہ کہتا ہوں کہ اسلام کے خلاف جو محاذ کھڑے ہورہے ہیں اُن سے ہم کامیابی سے صرف خدا کے حضور جھکتے ہوئے اور اس سے مدد طلب کرتے ہوئے گزر سکتے ہیں۔پس خدا کو پہلے سے بڑھ کر پکاریں کہ وہ اپنی قدرت کے جلوے دکھائے۔جھوٹے خداؤں سے اس دنیا کو نجات ملے۔آج اگر یہ لوگ اپنی امارت اور طاقت کے گھمنڈ میں اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں تو ہماری دعاؤں کے تیروں سے انشاء اللہ تعالیٰ ان کے گھمنڈ ٹوٹیں گے۔پس اُس خدا کو پکاریں جو کائنات کا خدا ہے۔جو رب العالمین ہے جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا ہے تا کہ جلد تر اس واحد ولا شریک خدا کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے۔مسلمان ملکوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے فروعی اختلافات کو ختم کریں، آپس کی لڑائیوں اور دشمنوں کو ختم کریں۔ایک ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔اور ایسے عمل سے باز آجائیں جن سے غیروں کو ان پر انگلی اٹھانے کی جرات ہو۔اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے۔آج بھی میں کچھ لوگوں کے جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ایک تو مکرم پیر معین الدین صاحب کا جنازہ ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے، اس لحاظ سے میرے خالو بھی تھے۔انہوں نے جامعہ میں پڑھا یا فضل عمر ریسرچ میں کام کیا۔علمی آدمی تھے علمی ذوق رکھتے تھے، واقف زندگی تھے۔دوسرا جنازہ مکرمہ آمنہ خاتون صاحبہ کا ہے جورہ گیا تھا۔یہ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کی اہلیہ