خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 41
41 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم امیر صاحب کہنے لگے کہ یہ بول بول کر تھک گئے ہیں کیونکہ جب جواب نہ دیا جائے تو آخر انہوں نے کسی وقت تو تھکنا ہے ناں، بہر حال شرمندہ ہو کر چلے گئے۔پھر جب جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی اور میں نے اپنی تقریر میں محبت، پیار اور بھائی چارے کی باتیں کیں تو جو غیر مہمان آئے ہوئے تھے ان کے چہروں سے صاف لگ رہا تھا کہ یہ تو بالکل اور دنیا ہے، باہر ہم کیا سن کر آ رہے تھے اور یہ کیا کہہ رہے ہیں۔بلکہ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ ان باتوں کا ذکر تک نہیں کیا کہ باہر کوئی شور بھی پڑ رہا ہے یا نہیں۔تقریر کے بعد کئی مہمان میرے پاس آئے اور انہوں نے شکریہ ادا کیا کہ آپ بڑی خوبصورت تعلیم دیتے ہیں۔مولویوں کے نعروں کے باوجود بھی بعض غیر احمدی مسلمان شرفاء وہاں شامل ہوئے تھے اور مجھے جلسے کے بعد ملے بھی اور بڑی تعریف کی۔ایک صاحب تو جو حلیے سے بہت کٹر قسم کے مولوی لگ رہے تھے ، میں سمجھا شاید یہ شرارت کی نیت سے آئے ہیں لیکن بڑی شرافت سے باتیں کیں اور شکریہ ادا کر کے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کا وعدہ ہے۔یہ لوگ جتنا مرضی دوسروں کو ڈرانے کی کوشش کریں یا ہمیں ڈرانے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ اپنے کام کرتا چلا جاتا ہے۔اس کو ان لوگوں کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے ہیں اُن میں کوئی انسانی کوشش روک نہیں ڈال سکتی۔اور اپنے وقت پر انشاء اللہ تعالیٰ اس کے نتیجے بھی ظاہر ہوتے چلے جائیں گے۔پھر وہاں کے ملک کے صدر صاحب ہندو ہیں، بڑے شریف آدمی ہیں ، ان سے بھی ملاقات ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جب دورہ فرمایا تھا اس وقت وہ ملک کے وزیر اعظم تھے۔اس دورے کا بھی ذکر کرتے رہے اور انہوں نے بتایا بلکہ ان کی بیوی نے بتایا کہ اس دوران ہم نے جو تصویریں کھنچوائی تھیں وہ ہم نے اپنے گھر میں نمایاں کر کے لگائی ہوئی ہیں تا کہ ہم ان برکات سے فیض حاصل کریں جو ایسے نیک آدمیوں کی وجہ سے پہنچ سکتا ہے۔بہر حال ان کا اپنا ایک نظریہ ہے اور انہوں نے بڑا محبت اور پیار کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ ایسے شریف النفس لوگوں کے سینے بھی کھولے۔وہاں کے نائب صدر بھی جو مسلمان ہیں ان سے بھی بڑے اچھے ماحول میں احمدیت اور اسلام کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔زیادہ تر مسلمانوں کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔تو یہ شریف لوگ ہیں۔یہ شر پسند مولویوں کی حرکات سے شرمندہ بھی ہوتے ہوں گے اور بہر حال مصلحتنا یا کسی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔حالانکہ ان لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ مولوی جو ہیں اگر ان کو کھلی چھٹی دی تو یہ پیر تسمہ پاکی طرح ان کی گردنوں کو قابو کر لیں گے اور پھر جان چھڑانی مشکل ہو جائے گی۔صرف پاکستان میں ہی نہیں، ایسے نمونے ہمارے سامنے ہیں کہ جہاں بھی ان کو کھلی چھٹی دی گئی ہے وہاں یہ اس طرح کی kh5-030425