خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 42

42 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم کوششیں کرتے ہیں اور کریں گے اور اپنی فطرت دکھا ئیں گے۔ہمارے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں، ہمارا تو یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔جماعت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفت کے باوجود دنیا میں ہر جگہ بڑھ رہی ہے لیکن جن حکومتوں نے بھی ان کی پشت پناہی کی ہے یا ان سے انہیں مددملی ہے ان کے لئے ہمیشہ ابتلا ہی آیا ہے۔جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگر پاکستان کی حکومت نے ان سے جان نہ چھڑائی تو یہ پھر کبھی نہیں چھوڑیں گے آجکل وہی ہو رہا ہے۔اب حکومت بھی مشکل میں ہے اور وہ مغربی ممالک جو اپنے مفاد کے لئے ان کو آگے لائے تھے وہ بھی اب پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔اب ان کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔لیکن اب ان سے جان چھٹتی نظر نہیں آرہی۔اگر گہرائی میں جائزہ لیں تو ان لوگوں کی وجہ سے ہی ملک کی ترقی کئی سال پیچھے ہو چکی ہے۔اسی طرح اب دوسری مسلمان دنیا میں ہو رہا ہے۔جس طرح میں نے پہلے بھی کہا ، اگر ان ملکوں نے اپنے ذہنوں کو روشن نہ کیا اور ملائیت کو سیاست اور حکومت سے علیحدہ نہ کیا تو ان تمام ملکوں کے امن بر باد ہو جائیں گے اور یہ پھر بھی ترقی نہیں کر سکیں گے بلکہ اب یہ عمل شروع بھی ہو چکا ہے اور دنیا کو نظر آ رہا ہے۔ابھی بھی مسلمان ملکوں کو، حکومتوں کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم پر تو ، جماعت احمدیہ پر تو مخالفت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ انشاء اللہ ہو گا۔اس کے باوجود کہ مخالفت تھی ، دو تین وہیں کے تھے اور ایک دو باہر کے جزیروں سے مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے ، چند افراد نے بیعت بھی کی۔بیعت کے بعد ملاقاتیں بھی تھیں۔ایک غیر از جماعت لڑکا اپنے ایک احمدی دوست کے ساتھ ملاقات کے لئے آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے بیعت نہیں کی۔کہنے لگا ابھی بعض باتوں کی وجہ سے میرے دل میں انقباض ہے، کچھ ڈانواں ڈول ہوں۔میں نے اس سے مذاقاً کہا کہ آج مولویوں کا عمل بھی تم نے دیکھ لیا ہے، ہماری باتیں بھی سن لی ہیں تو ابھی بھی تمہاری تسلی نہیں ہوئی۔تو بڑا شرمندہ ہوا، بہر حال میں نے اس سے کہا کہ تم نیک فطرت نظر آتے ہو، ان باتوں کے بارے میں جن میں تم تسلی نہیں پاتے اس کا اب ایک ہی علاج ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور چند دن دعا کرو پھر فیصلہ کرو۔میں نے کہا مجھے امید ہے کہ تمہارا دل کھل جائے گا۔چنانچہ وہ دو دن کے بعد ہی آگیا کہ جو انقباض تھا وہ دُور ہو گیا ہے اب میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔تو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار۔اس نے تو انشاء اللہ آنا ہی آنا ہے چاہے مولوی جتنا مرضی زور لگا لیں۔لیکن ان بد فطر توں کا انجام بھی بہت بھیانک ہونے والا ہے۔انشاء اللہ۔kh5-030425