خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 40

خطبات مسرور جلد چهارم 40 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء زیادہ فساد پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور احمدیوں نے بڑے صبر کا نمونہ دکھایا تھا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے افراد کو بڑے تعریفی کلمات سے نوازا تھا کہ یہی لوگ ہیں جو صبر کرتے ہیں، نہیں تو فساد بڑھ سکتا تھا۔آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا کے ان دور دراز ملکوں میں بھی اللہ تعالیٰ جماعت کے افراد کو صبر کے نمونے دکھانے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔بہر حال وہاں اگر کسی احمدی کی طرف سے ہلکا سا بھی رد عمل ظاہر ہوتا تو فساد بڑھ جانے کا خطرہ تھا اور پھر یہ جماعت پر بہت بڑا داغ ہونا تھا کیونکہ ہم تو ہمیشہ امن صلح اور پیار اور محبت کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس نے ظلم کا عفو سے انتقام لیا تھا۔ہم نے تو انشاء اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر کونے میں، ہر ملک میں ان زیادتی کرنے والوں کو معاف کرتے رہنا ہے اور یہ معافی ہم کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں کرتے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی جو صحیح تعلیم ہمیں دی ہے اس پر عمل کرتے ہوئے کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے جو اُسوہ رکھا ہے اس کے مطابق کرتے ہیں۔اگر نظر آ سکے، یہ مخالفین کبھی احمدیوں کا دل چیر کر دیکھیں کہ کس طرح احمدی ایسے حالات میں صبر اور حو صلے کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔پس ہمیشہ ہر احمدی کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ یہ صبر کا نمونہ انہوں نے دکھانا ہے اور دکھاتے چلے جانا ہے اور ہمیشہ یہ آپ کا طرہ امتیاز ہونا چاہئے کہ قانون کو بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔لیکن اگر قانون لاگو کرنے والے کبھی یہ کہیں کہ خود سنبھال لوتو احمدی اللہ کے فضل سے ان فتنوں کو ایک منٹ میں ختم بھی کر سکتا ہے۔تو یہ غلط فہمی نہ ہمارے دل میں ہے اور نہ کبھی مخالفین کے دل میں ہونی چاہئے کہ ہم کسی کمزوری کی وجہ سے صبر کرتے ہیں۔بہر حال یہ مولوی لاؤڈ سپیکر پر گندے نعرے لگاتے رہے ، گالیاں بکتے رہے۔جس جگہ یہ لوگ گیٹ کے باہر سڑک پر کھڑے ہو کر نعرے لگا رہے تھے ، وہاں سے بعض سرکاری افسران جن کو جلسے پر مدعو کیا گیا تھا، بلایا گیا تھا وہ بھی گزر کر آ رہے تھے دوسرے معزز لوگ بھی آ رہے تھے جن میں غیر مسلم بھی تھے۔تو بہر حال یہ بھی ان کی جرات ہے کہ باوجود اس ہنگامے کے انہوں نے پرواہ نہیں کی اور اس جگہ سے گزر کر جلسے میں شامل ہوئے۔یہ مولوی میرے آنے کا کافی دیر تک انتظار کرتے رہے لیکن جب کافی دیر ہوگئی تو نعرہ لگا دیا کہ احمدیوں کا خلیفہ ڈر گیا ہے اب اس نے نہیں آنا چلو واپس۔بہر حال کیونکہ اس وقت نماز کا وقت بھی تھا کچھ خاموشی بھی تھوڑی دیر کے لئے ہوگئی۔لیکن اتفاق سے یا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ جب انہوں نے یہ نعرہ لگایا ہے، اسی وقت چند آدمی بیعت کے لئے آئے ہوئے تھے تو بیعت شروع ہوگئی۔جب لاؤڈ سپیکر پر آواز باہر نکلی تو کافی شرمندہ ہوئے ہوں گے۔ان کے لئے لفظ شرمندہ تو استعمال نہیں ہوسکتا، کچھ اور لفظ ہونا چاہئے۔ان کو یہ تسلی ہوگئی کہ میں اندر ہوں۔اب یہ بڑے پریشان تھے کہ یہ آیا کس طرح؟ بہر حال تھوڑی دیر بعد ان کی یہ گالیاں بند ہو ا بند ہوگئیں۔تو kh5-030425