خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 39

خطبات مسرور جلد چهارم 39 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑ رہا ہے جس طرح جب جسم کمزور ہو تو بعض چھپی ہوئی بیماریاں حملہ کر دیتی ہیں اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو، اس کے آگے جھکنے والے نہ ہوں ، تو شیطان بھی فوری طور پر حملہ کرتا ہے۔پس جتنے اللہ تعالیٰ کے فضل زیادہ ہوں اتنی ہی زیادہ استغفار کی ضرورت ہے، اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنے فضلوں کے سائے میں رکھے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی آبادی وہاں تقریباً 17-16 فیصد ہے لیکن وہاں برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش والے ملا ؤں والے حالات ہیں اور جماعت کے بارے میں جو غلط سلط مُلاں وہاں کہتے ہیں لوگ ان کو سن لیتے ہیں اور ان باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، جوش میں آجاتے ہیں۔شاید اس کے لئے بعض مسلمان ملکوں سے انہیں ایڈ (Aid) بھی ملتی ہو۔آجکل ان نام نہاد علماء کو جہاں بھی موقع ملتا ہے، جس ملک میں بھی موقع ملتا ہے، ان کا کام صرف احمدیوں کے خلاف فتنہ پیدا کرنا ہے۔بہر حال ماریشس میں بھی احمدیوں کی کافی مخالفت ہے احمدیوں کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف جب بھی ان کو موقع ملتا ہے کافی بد زبانی کرتے ہیں۔کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح فساد ہو۔میرے دورے کی خبر جب اخبار میں اور ٹی وی وغیرہ پر آئی تو انہوں نے بڑا سخت احتجاج کیا کہ کیوں یہ خبر دی گئی ہے۔پھر جب ہمارا جہاں جلسہ ہو رہا تھا، جلسے کے آخری دن گیٹ کے سامنے بہت ہلڑ بازی کی، شور مچایا، نعرے لگائے ، گالیاں نکالیں ، میرے خلاف، جماعت کے خلاف ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف جو کچھ بک سکتے تھے بکتے رہے۔جو مغلظات کہہ سکتے تھے کہتے رہے۔جلسہ کے آخری دن جیسا کہ میں نے کہا کہ میرے جلسے پر جانے سے پہلے اس گیٹ کے سامنے کافی لوگ اکٹھے ہوئے تھے اور جلوس تھا اور فتنہ پیدا کرنے کا خیال تھا۔وہاں کے امیر صاحب اور انتظامیہ بڑی پریشان تھی کہ کہیں کوئی احمدی اس ہلڑ بازی اور گالی گلوچ کی وجہ سے جوش میں آ کر جواب نہ دے دے اور کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جس سے پھر فساد مزید بھڑ کے۔یا جب میں گزروں گا تو اس وقت کوئی احمدی ری ایکٹ (React) کرے اور پھر فساد کا خطرہ پیدا ہو۔تو بہر حال اس کے سد باب کے لئے انہوں نے میرے جانے کا راستہ بدل دیا اور مجھے آخری وقت میں بتایا کہ ہم نے اس لئے راستہ بدلا ہے۔ان کے فساد کی وجہ سے پولیس بھی وہاں کافی تھی، تو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ ان کے شور اور گالی گلوچ کے باوجود احمدیوں نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا۔اور حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر مل کر کے دکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی اسی طرح ایک موقع پر مخالفین نے بہت kh5-030425