خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 457
457 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم کے ساتھ بھی ایک شخص ہے مگر اس نے مصافحہ نہیں کیا اور نہ وہ اندر آیا۔اس کی تعبیر میں نے یہ کی کہ آسمانی باشاہت سے مراد سلسلے کے برگزیدہ لوگ ہیں۔جن کو خدا از مین پر پھیلا دے گا۔اور اس دیوانے سے مراد کوئی متکبر مغرور متمول یا تعصب کی وجہ سے کوئی دیوانہ ہے خدا اسکو تو فیق بیعت دے گا۔اور پھر الہام ہوا کا تَخَفْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا گویا میں کسی دوسرے کو تسلی دیتا ہوں کہ تو مت ڈر بے شک خدا ہمارے ساتھ ہے“۔( بدر جلد 2 نمبر 45 مورخہ 8 نومبر 1906ءصفحہ 3۔الحکم جلد 10 نمبر 38 مورخہ 10 نومبر 1906 صفحہ 1) پس آج روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہر احمدی کو دعاؤں کے ذریعہ سے، اپنی عبادتوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق جوڑ کر ان برگزیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے جو روشن ستاروں کی طرح آسمان پر چمک رہے ہیں۔جنہوں نے پہلوں سے مل کر دنیا کے لئے ہدایت کا موجب بننا ہے اور آسمانی بادشاہت کو پھر سے دنیا میں قائم کرنا ہے۔ہر دل کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکانے کی کوشش کرنی ہے۔ہر احمدی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ” پیر بنو۔پیر پرست نہ بنو “ اور ”ولی بنو۔ولی پرست نہ بنو “ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم خاتم الاولیاء اور خاتم الخلفاء کی پیروی کرتے ہوئے اپنی عبادتوں کو سنوارتے ہوئے ، قبولیت دعا کے نظارے دیکھتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لیے۔کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقعہ بہر حال مل جائے گا۔اس وقت کی دعاؤں میں خاص تاثیر ہوتی ہے۔کیونکہ وہ بچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 182 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پھر آپ فرماتے ہیں: ساری عقدہ کشائیاں دعا کے ساتھ ہو جاتی ہیں۔ہمارے ہاتھ میں بھی اگر کسی کی خیر خواہی ہے تو کیا ہے۔صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے۔کیا دوست کے لئے اور کیا دشمن کے لئے۔ہم سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کر سکتے۔ہمارے بس میں ایک ذرہ بھر بھی نہیں ہے مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کر دے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 132 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری مددفر ما تار ہے اور ہم ان نصیحتوں پر عمل کرنے والے ہوں۔ایک بات میں کہنی چاہتا ہوں۔گزشتہ جمعہ میں نے دعا کی غرض سے بزرگوں کا ذکر کیا تھا۔جو میں