خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 458
458 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ضروری ہے۔صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ کے ذکر میں میں نے ان کی دوسری باتیں بتائی تھیں لیکن کسی جماعتی خدمت یا علمی خدمت کا ذکر نہیں کیا تھا۔لجنہ کا کام تو خیر آپ کرتی رہی ہیں اور بڑا لمبا عرصہ کیا ہے۔لیکن جو سب سے زیادہ اہم کام ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے خاوند حضرت میر داؤد احمد صاحب کے ساتھ مل کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں سے مختلف عنوانات کے تحت حوالے نکالے اور انہیں یکجا کیا ہے جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریروں کی رو سے، چھپی ہوئی کتاب ہے۔یہ بہت بڑا کام ہے جو انہوں نے کیا۔اور ان دنوں میں میں خود بھی ان کو دیکھتا رہا ہوں۔میں نے نوٹ میں رکھا بھی تھا لیکن کسی وجہ سے رہ گیا۔بہر حال میں جب بھی ان کے گھر جاتا تھا دونوں میاں بیوی بیٹھے ہوئے حوالوں کو دیکھ رہے ہوتے تھے یا پروف ریڈنگ کر رہے ہوتے تھے اور بڑا لمبا عرصہ انہوں نے یہ کام کیا ہے۔گھنٹوں بیٹھے ہوئے ہیں۔اب یہ ایسا کام ہے جس سے کافی حد تک کسی بھی موضوع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فوری حوالہ بھی مل جاتا ہے۔اور جہاں یہ چیز ہوتی ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھنے کی طرف بھی توجہ ہو جاتی ہے۔میر داؤ د احمد صاحب نے جو پیش لفظ لکھا ہے اس میں صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبہ کے بارے میں یہ ذکر بھی کیا ہے کہ ”میرا دل اپنی رفیقہ حیات کے لئے ممنونیت کے جذبات سے لبریز ہے جنہوں نے اقتباسات کی تلاش، نقل ، تصحیح اور پھر کاپی پڑھنے میں مسلسل بڑے حو صلے اور محنت سے میرا ہاتھ بٹایا۔“ 66 ( حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام اپنی تحریروں کی رو سے، جلد اول ، پیش لفظ ، نظارت اشاعت ربوہ ) تو اللہ تعالیٰ ان دونوں پر اپنے پیار کی نظر رکھے۔انہوں نے یہ بہت اہم کام کیا ہے۔اس کی اہمیت کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی فرمایا تھا کہ اس کا ترجمہ کریں جو کہ پھر انہوں نے Essence of Islam کے نام سے انگریزی میں کیا۔دو جلدیں ان کی زندگی میں شائع ہو گئیں اور دو بعد میں چھپی ہیں اور مزیدا بھی چھینی ہیں کیونکہ ابھی بھی جو حوالے ان دونوں میاں بیوی نے اکٹھے کئے تھے انگریزی ٹرانسلیشن میں تمام عناوین کو ابھی تک Cover نہیں کیا جاسکا۔چار جلدوں کے باوجود یہ بہت بڑا کام تھا کیونکہ اس سے لوگوں کو شوق پیدا ہورہا ہے۔یہاں ایک انگریز احمدی خاتون نے مجھے کہا کہ براہین احمدیہ کا ترجمہ کب ہو رہا ہے۔کیونکہ میں نے کچھ حوالے اس کے پڑھے ہیں۔دل چاہتا ہے کہ اب پوری کتاب پڑھی جائے۔تو یہ جو حوالوں کے ترجمے ہیں یہ لوگوں میں اصل کتابوں کے پڑھنے کا بھی شوق پیدا کرتے ہیں۔تو میں نے سوچا کہ اس لحاظ سے بھی ان کا کام بیان کر دوں تا کہ لوگ ان کو اس لحاظ سے بھی دعاؤں میں یا درکھیں۔