خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 38

خطبات مسرور جلد چهارم 38 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء تقریباً 12-13 لاکھ ہے۔اس ملک کی اکثریت مذہبی لحاظ سے ہندو ہے، مسلمانوں کی آبادی تقریباً 16-17 فیصد ہے اور اس ملک میں احمدی چند ہزار ہیں۔لیکن یہ چند ہزار احمدی بھی ماشاء اللہ جوش اور جذبے اور اخلاص اور وفا سے بھرے ہوئے ہیں اس لئے نمایاں نظر آتے ہیں۔جب میں ائر پورٹ پر اترا ہوں تو بہت بڑی تعداد عورتوں، بچوں، مردوں کی استقبال کے لئے کھڑی تھی۔اور جیسا کہ عموماً ہر جگہ، ہر ملک میں ، احمدیوں کے چہروں سے نظر آتا ہے، سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔یہ کیفیت دیکھ کر بے اختیار اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ ہوتی ہے کہ کس طرح وہ اپنے وعدوں کے مطابق جو اس نے اپنے صحیح پاک علیہ السلام سے کئے دُور دراز کے ملکوں میں بھی اس کے نظارے ہمیں دکھاتا ہے۔ماریشس کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی قربانی کرنے والی جماعت ہے۔پہلے میں وہاں بھی ذکر کر چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مساجد بنانے کی طرف ان کی بہت توجہ ہے اور اچھی خوبصورت مسجدیں بناتے ہیں۔صفائی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی آپ چلے جائیں جہاں چند ایک احمدی موجود ہیں تو وہاں بھی جماعت کی مسجد ہے۔اور محض ایک چھوٹی سی مسجد ہی نہیں بلکہ اچھی اور خوبصورت مسجد انہوں نے بنائی ہوئی ہوتی ہے اور اس مسجد میں تمام سہولتیں مہیا ہیں۔روز ہل، جہاں ہماری پرانی اور مرکزی مسجد ، بہت بڑی مسجد ہے، اس کے ساتھ جماعت کے دفاتر وغیرہ بھی ہیں۔اس کے اردگرد تین چار کلومیٹر کے ایریا میں جماعت کی تین چار مساجد ہیں۔جس طرح ربوہ یا قادیان میں ہر محلے میں مسجد بنی ہوئی ہے یہاں بھی چھوٹی چھوٹی جگہوں پر جہاں بھی احمدیوں کی تھوڑی سی آبادی ہے وہاں مسجد بنی ہوئی ہے۔اب تک جن ملکوں میں میں گیا ہوں بلکہ جہاں نہیں بھی گیا وہاں بھی میرے خیال میں اس طرح مساجد بنانے کی طرف توجہ نہیں ہے جس طرح ماریشس میں ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہمیشہ مساجد کو آباد رکھنے کی بھی توفیق عطا فرما تا چلا جائے۔قربانی کرنے میں جہاں غریب اور کم آمدنی والے لوگ اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں وہاں امیر آدمی بھی، پڑھے لکھے اور دنیاوی لحاظ سے اچھی پوزیشن کے احمدی لوگ بھی ہیں جو بہت سادہ مزاج ہیں اور قربانی کے اچھے معیار قائم کرنے والے ہیں۔روپے پیسے نے مالی کشائش نے انہیں دین سے دور لے جانے کی بجائے اکثریت کو اخلاص و وفا میں بڑھایا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہمیشہ اخلاص و وفا میں بڑھاتا چلا جائے۔کبھی ان لوگوں میں تکبر نہ آئے کیونکہ یہ تکبر ہی ہے جو دین سے دور لے جانے والا اور دنیا کے قریب کرنے والا ہوتا ہے۔ان لوگوں کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے لئے دعائیں کرتے رہیں کبھی دماغ میں تکبر کا کیڑا نہ آئے۔کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں نہ ہو اور اس کا فضل شامل حال نہ ہو تو kh5-030425