خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 422 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 422

خطبات مسرور جلد چہارم 422 خطبہ جمعہ 25 /اگست 2006 میں آئے ہوئے تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا اور چند دن سے بارش رکی ہوئی تھی۔جب ہم قادیان سے واپس روانہ ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سلام کے لئے حاضر ہوئے تو منشی اروڑا صاحب مرحوم نے حضرت صاحب سے عرض کیا، حضرت گرمی بڑی سخت ہے۔دعا کریں کہ ایسی بارش ہو کہ بس او پر بھی پانی ہو اور نیچے بھی پانی۔حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا اچھا او پر بھی پانی ہو اور نیچے بھی پانی ہو۔مگر ساتھ ہی میں نے ( منشی ظفر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ) ہنس کر عرض کیا کہ حضرت یہ دعا انہیں کے لئے کریں، میرے لئے نہ کریں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر مسکرا دیئے اور ہمیں دعا کر کے رخصت کیا۔منشی صاحب فرماتے ہیں کہ اس وقت مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان پر بادل کا نام و نشان تک نہ تھا۔مگر ابھی ہم بٹالہ کے راستہ میں یکہ پر بیٹھ کر تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ سامنے سے ایک بادل اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر چھا گیا اور پھر اس زور کی بارش ہوئی کہ راستہ کے کناروں پر مٹی اٹھانے کی وجہ سے جو خندقیں یا نالیاں سی بن گئی تھیں وہ پانی سے لبالب بھر گئیں۔اس کے بعد ہمارا یکہ جو ایک طرف کی خندق کے پاس سے چل رہا تھا یک لخت الٹا اور اتفاق ایسا ہوا کہ منشی اروڑ ا صاحب خندق کی طرف کو گرے اور میں اونچے راستہ کی طرف گرا جس کی وجہ سے منشی صاحب کے اوپر اور نیچے سب پانی پانی ہو گیا۔کہتے ہیں کہ میں بیچ رہا۔کیونکہ خدا کے فضل سے چوٹ کسی کو بھی نہیں آئی تھی اس لئے میں نے منشی اروڑ ا صاحب کو اوپر اٹھاتے ہوئے ہنس کر کہا۔لو او پر اور نیچے پانی کی اور دعائیں کرالو۔اور پھر حضرت صاحب کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ہم آگے روانہ ہو گئے۔(اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ 97,96) لگتا ہے کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب بہت محتاط بھی تھے، دعاؤں پر یقین تو یقینا دونوں کو ہی ہوگا۔لیکن ان کو پتہ تھا کہ اگر فوری پوری ہوگئی تو راستہ کا سفر ہے، کوئی واقعہ پیش ہی نہ آ جائے۔اپنی ایک دعا کی قبولیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اس جگہ ایک تازہ قبولیت دعا کا نمونہ جو پہلے اس سے کسی کتاب میں نہیں لکھا گیا ناظرین کے فائدہ کے لئے لکھتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ مع اپنے بھائیوں کے سخت مشکلات میں پھنس گئے تھے۔منجملہ ان کے یہ کہ وہ ولی عہد کے ماتحت رعایا کی طرح قرار دئیے گئے تھے اور انہوں نے بہت کچھ کوشش کی مگر ناکام رہے اور صرف آخری کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقابہ سے اپنی دادرسی چاہیں اور اس میں بھی کچھ امید نہ تھی کیونکہ ان کے برخلاف قطعی طور پر حکام ماتحت نے فیصلہ کر دیا تھا۔“