خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 421

421 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم حضرت مسیح موعود کا جواب گیا کہ ہم نے دعا کی ہے۔والد صاحب نے یہ خط تمام محلے والوں کو دکھا دیا اور کہا کہ حضرت صاحب نے دعا کی ہے اب دیکھ لینا خلیفہ گالیاں نہیں دے گا۔دوسرے تیسرے دن جمعہ تھا۔ہمارا دادا حسب دستور غیر احمدیوں کے ساتھ جمعہ پڑھنے گیا مگر وہاں سے واپس آکر غیر معمولی طور پر حضرت مسیح موعود ( علیہ الصلوۃ والسلام) کے متعلق خاموش رہا۔حالانکہ اس کی عادت تھی کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر آنے کے بعد خصوصاً بہت گالیاں دیا کرتا تھا۔لوگوں نے اس سے پوچھا کہ آج مرزا صاحب کے متعلق خاموش کیوں ہو؟ اس نے کہا کسی کے متعلق بد زبانی کرنے سے کیا حاصل ہے۔اور مولوی نے بھی آج جمعہ میں وعظ کیا ہے کہ کوئی شخص اپنی جگہ کیسا ہی برا ہو ہمیں بدزبانی نہیں کرنی چاہئے۔لوگوں نے کہا اچھا یہ بات ہے؟ ہمیشہ تو تم گالیاں دیتے تھے اور آج تمہارا یہ خیال ہو گیا ہے۔بلکہ اصل میں بات یہ ہے کہ بابو ( کہتے ہیں کہ میرے والد کو لوگ بابو کہا کرتے تھے ) کل ہی ایک خط دکھا رہا تھا کہ قادیان سے آیا ہے اور کہتا تھا کہ اب خلیفہ گالی نہیں دے گا ( یعنی یہ آدمی جو گالیاں دیا کرتا تھا)۔مولوی رحیم بخش صاحب کہتے ہیں کہ اس کے بعد باوجود کئی دفعہ مخالفوں کے بھڑ کانے کے میرے دادا نے کبھی حضرت مسیح موعود کے متعلق بدزبانی نہیں کی اور کبھی میرے والد صاحب کو احمدیت کی وجہ سے تنگ نہیں کیا۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 51 روایت نمبر 78) آپ کی دعا سے بارش کے دو واقعات کا بھی میں ذکر کر دیتا ہوں۔شیخ محمد حسین صاحب پنشنر حج اسلامیہ پارک لاہور لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ حضور لاہور میں میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر فروکش تھے، جنوری کا مہینہ تھا سن یاد نہیں۔رات دس بجے کے قریب کا وقت تھا۔اس سال بارش نہیں ہوئی تھی۔حاضرین میں سے کسی نے کہا حضور دعا کریں بارش ہو کیونکہ بارش کے نہ ہونے کی وجہ سے قحط کے آثار نظر آ رہے ہیں۔حضور نے نہ دعا کی نہ کوئی جواب دیا اور باتیں ہوتی رہیں۔پھر اس نے یا کسی اور نے بارش کے لئے دعا کو کہا مگر پھر بھی حضور نے کوئی توجہ نہ کی۔کچھ دیر بعد پھر تیسری دفعہ کسی نے دعا کے لئے کہا۔اس پر حضور نے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی۔اس وقت چاند کی چاندنی تھی اور آسمان بالکل صاف تھا مگر حضور کے ہاتھ اٹھتے ہی ایک چھوٹی سی بدلی نمودار ہوئی اور بارش کی بوندیں پڑنی شروع ہو گئیں۔اور ادھر حضور نے دعا ختم کی ادھر بارش تھم گئی۔صرف چند منٹ ہی بارش ہوئی اور آسمان صاف ہو گیا۔تاریخ احمدیت لا ہور صفحہ 290) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا بھی ایک واقعہ ہے جس میں قبولیت دعا بھی ہے اور یہ بھی کہ دعا کس حد تک کروانی چاہئے۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی لکھتے ہیں کہ میں اور منشی اروڑا صاحب اکٹھے قادیان