خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 423 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 423

خطبات مسرور جلد چهارم 423 خطبہ جمعہ 25 /اگست 2006 وہ بھی نواب خاندان کے تھے لیکن نوابی کیونکہ دوسروں کو مل گئی تھی اس لئے ان کو بالکل ہی رعایا بنا دیا گیا تھا اور انہیں حقوق نہیں دیئے گئے تھے۔بہر حال جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو جہاں پر فیصلہ ہونا تھا انہوں نے ، سب افسران نے یہ فیصلہ دے دیا تھا کہ یہ ان کے حق میں نہیں ہو سکتا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :- اس طوفان غم و ہمت میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے انہوں نے صرف مجھ سے دعا کی ہی درخواست نہ کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجات دے تو وہ تین ہزار نقد روپیہ بعد کامیابی کے بلا توقف لنگر خانہ کی مدد کے لئے ادا کریں گے۔چنانچہ بہت سی دعاؤں کے بعد مجھے یہ الہام ہوا کہ اے سیف اپنا رخ اس طرف پھیر لے۔تب میں نے نواب محمد علی خاں صاحب کو اس وحی الہی سے اطلاع دی۔بعد اس کے خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور صاحب بہادر وائسرائے کی عدالت سے ان کے مطلب اور مقصود اور مراد کے موافق حکم نافذ ہو گیا۔تب انہوں نے بلا توقف تین ہزار روپیہ کے نوٹ جو نذر مقرر ہو چکی تھی مجھے دیدیئے اور یہ ایک بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 338 339) آپ کی قبولیت دعا پر غیروں کو بھی یقین تھا۔چنانچہ ایک ہندو کے آپ کو دعا کے لئے عرض کرنے کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ :۔شرمپت کا ایک بھائی بشمبر داس نام ایک فوجداری مقدمہ میں شاید ڈیڑھ سال کے لئے قید ہو گیا تھا تب شرمت نے اپنی اضطراب کی حالت میں مجھ سے دعا کی درخواست کی۔چنانچہ میں نے اس کی نسبت دعا کی تو میں نے بعد اس کے خواب میں دیکھا کہ میں اس دفتر میں گیا ہوں جس جگہ قیدیوں کے ناموں کے رجسٹر تھے اور ان رجسٹروں میں ہر ایک قیدی کی میعاد قید لکھی تھی۔تب میں نے وہ رجسٹر کھولا جس میں بشمبر داس کی قید کی نسبت لکھا تھا کہ اتنی قید ہے اور میں نے اپنے ہاتھ سے اس کی نصف قید کاٹ دی اور جب اس کی قید کی نسبت چیف کورٹ میں اپیل کیا گیا تو مجھے دکھلایا گیا کہ انجام مقدمہ کا یہ ہوگا کہ مثل مقدمہ ضلع میں واپس آئے گی اور نصف قید بشمبر داس کی تخفیف کی جائے گی مگر بری نہیں ہو گا۔اور میں نے وہ تمام حالات اس کے بھائی لالہ شرمیت کو از ظہور انجام مقدمہ بتلا دیئے تھے اور انجام کا رایسا ہی ہوا جو میں نے کہا تھا۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 232) یعنی اس کی آدھی سزا معاف ہو گئی ، پوری سزا تو معاف نہیں ہوئی لیکن آدھی سزا معاف ہو گئی اسی خواب کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دیکھی تھی۔