خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 373
خطبات مسرور جلد چهارم 373 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 کرو۔نظام جماعت نے ان ڈیوٹی دینے والوں کی بعض حدود مقرر کی ہوئی ہیں ان حدود سے نکل کر غلط طور پر ان کی حمایت لینے کی کوشش نہ کرو اور ان کام کرنے والوں کے احسانمند ہوں اور ان سے خوش خلقی سے پیش آنے کی کوشش کریں۔اسی طرح جو لوگ لندن میں باہر کے ممالک سے آ کر یا یہاں دوسرے شہروں سے آ کر اپنے رشتہ داروں کے پاس، عزیزوں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ان کے احسان مند ہوں اور ان کی مہمان نوازی پر شکر گزاری کے جذبات رکھیں۔یہ خوش خلقی ، لحاظ اور احسانمندی اور شکر گزاری جب مہمانوں کی طرف سے بھی ہوگی تو تب اس معاشرے کی بنیاد پڑے گی جو خدا کی خاطر ایک دوسرے سے تعلق جوڑنے اور اللہ اور رسول کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔یہ ان لوگوں کا معاشرہ ہوتا ہے جوان تعلیمات پر عمل کرنے والا ہوتا ہے۔دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکرام ضیف یا مہمان نوازی یا مہمان کے عزت و احترام کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ کہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ناراض مہمان کو منانے کے لئے اس کے پیچھے تیز تیز جا رہے ہیں تا کہ اس کو پکڑ کر لائیں اور اسے منائیں۔کہیں رات کو موسم کی خرابی کے باوجود، شدت کے باوجود مہمان کے لئے دودھ لے کر آرہے ہیں۔کہیں مہمانوں کے لئے اپنے گھر کے تمام بستر بھی دے کر بیوی بچوں سمیت سردی میں رات گزار رہے ہیں۔کہیں مہمانوں کو فرماتے ہیں کہ تکلف نہ کیا کرو جو ضرورت ہو اس کا اظہار کر دو تا کہ تکلیف نہ ہو۔کبھی لنگر خانے والوں کو فرمارہے ہیں کہ مختلف علاقے کے لوگوں کے مزاج اور خوراک کی عادات مختلف ہوتی ہیں ان کا خیال کیا کرو اور ان سے پوچھ کر ان کے مزاج کے مطابق خوراک تیار کر دیا کرو۔بعض مہمانوں کے پان وغیرہ تک کا خیال فرما رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم خوش ہوتے ہیں جب مہمان تشریف لائیں اس لئے مہمان بھی بوجھ نہ سمجھا کریں۔اور یہ سب نمونے آپ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے دکھاتے ہیں اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام بھی یہی کوشش کرتا ہے کہ مہمان نوازی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرے اور انفرادی طور پر جن لوگوں کے گھروں میں مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی یہی جذ بہ دکھاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہاں میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جلسے کے دنوں میں کیونکہ رش بہت زیادہ ہوتا ہے، بہت بڑی تعداد ہوتی ہے اور آجکل تو دنیائے احمدیت کے ہر ملک سے مختلف طبقات سے لوگ آتے ہیں اور نظام جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ایک کی مہمان نوازی کرتا ہے۔کوشش یہ ہوتی ہے کہ بعض قوموں