خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 372 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 372

خطبات مسرور جلد چهارم 372 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 میں شامل ہو رہے ہیں، آپ لوگوں کے ذہنوں میں یہ چیز راسخ ہونی چاہئے ، یہ بات ہر وقت ہمیشہ رہنی چاہئے کہ آپ کے یہاں آنے کا مقصد کسی دنیاوی میلے میں شامل ہونا نہیں بلکہ اپنی روحانی ترقی کے لئے آئے ہیں۔آنے والے مہمانوں میں ایک بڑی تعداد اور اکثریت تو یہاں UK میں رہنے والے احمدیوں کی ہے پھر ایک خاصی تعداد جرمنی اور یورپ کے ممالک کے رہنے والے احمدیوں کی ہے جو یہاں آتے ہیں۔پھر اس کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے احمدی ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد، جیسا کہ میں نے کہا ، پہلی دفعہ یہاں آئی ہے اور یہاں کے حالات اور بعض طور طریقوں سے ناواقف ہیں۔کچھ ہر سال آنے والے مہمان بھی ہیں جن کے عزیز رشتہ دار یہاں ہیں۔پھر دنیا کے مختلف ممالک جن میں افریقہ، ایشیا، روس وغیرہ کے ممالک شامل ہیں، ان میں سے احمدی بھی اور بعض مہمان بھی ہمارے جلسے میں شمولیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔تو جہاں تک غیر از جماعت مہمانوں کا تعلق ہے ان کی مہمان نوازی کرنا صرف با قاعدہ ڈیوٹی پر مقرر کارکنان کا کام نہیں ہے بلکہ جن کے ساتھ وہ مہمان آئے ہیں وہ بھی ان کی ضروریات کا خیال رکھیں کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، باقی جو احمدی مہمان ہیں ان کو میں ان کی بعض ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔یہاں UK کے رہنے والے احمدی اور اسی طرح یورپ کے ممالک کے رہنے والے احمدیوں کے بعض رشتہ دار، دوست، واقف کار مختلف شعبہ جات میں ڈیوٹی دے رہے ہوں گے۔تو آپ لوگ جو اس مقصد کے لئے آئے ہیں کہ اس روحانی ماحول سے فائدہ اٹھا ئیں اور جلسے کی برکات سے فیضیاب ہوں تو آپ کا یہ کام ہے کہ اپنی توجہ اسی مقصد پر مرکوز رکھیں۔نہ تو آپ کو ان تین دنوں میں کسی بھی واقف کار کارکن سے غیر ضروری تو قعات ہونی چاہئیں کہ وہ آپ کی رائج طریق سے ہٹ کر مہمان نوازی یا خدمت کرے، نہ ہی آپ ان کا رکنوں کو مجبور کریں۔بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اپنے واقف کار کا رکن سے غلط توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور جب وہ اپنی ڈیوٹی کی مجبوری کی وجہ سے وہ تو قعات پوری نہ کر سکیں تو پھر شکوے، شکایتیں شروع ہو جاتی ہیں کہ دیکھیں جی فلاں رشتہ دار نے ، فلاں میرے قریبی نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔تو جہاں میزبانوں کو، مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے والوں کو مختلف قسم کی ڈیوٹیاں دینے والوں کو یہ حکم ہے کہ مہمان کی عزت اور احترام اور اکرام کریں، انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچا ئیں ، ان سے خوش خلقی سے پیش آئیں ، وہاں مہمان کو بھی یہ حکم ہے کہ تم بھی بلاوجہ خدمت کرنے والوں پر، گھر والوں پر جن کے گھر تم ٹھہرے ہوئے ہو، کسی قسم کا بوجھ نہ بنو، ان سے غلط توقعات وابستہ نہ